تاریخ / مقام: اسلام آباد
قومی و قانونی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی پولیس میں انسپکٹرز کے عہدوں پر براہِ راست بھرتیوں کے معاملے پر ایک اہم حکم نامہ جاری کرتے ہوئے تقرریوں کے پورے عمل کو عدالت کے حتمی فیصلے سے مشروط کر دیا ہے۔ عدالت نے وزارتِ داخلہ اور پولیس حکام سمیت تمام متعلقہ اداروں سے جواب طلب کر لیا ہے۔
درخواست کا پس منظر اور قانونی مؤقف
یہ حکم نامہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس ایاز شوکت نے 39 سب انسپکٹرز کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست پر سماعت کے بعد جاری کیا۔ درخواست گزاروں کی جانب سے وزارتِ داخلہ کے 29 اپریل کے نوٹیفکیشن اور پبلک سروس کمیشن کے 11 اگست کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔
عدالت میں سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ:
- انسپکٹر کے عہدے پر براہِ راست بھرتیاں پولیس آرڈر 2002 کے آرٹیکل 7(3) کے صریحاً منافی ہیں۔
- پولیس آرڈر 2002 اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (ICT) میں مکمل طور پر نافذ العمل ہے، جس کی توثیق اسلام آباد ہائی کورٹ اپنے 2019 کے ایک فیصلے میں بھی کر چکی ہے۔
- وکیل کا کہنا تھا کہ قانون میں اس بات کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے کہ انسپکٹر کے عہدے پر براہِ راست بھرتیاں کی جائیں، اور اگر یہ عمل جاری رہا تو قانونی طریقہ کار کے خلاف تقرریاں عمل میں آ سکتی ہیں۔
عدالت کے نوٹس اور آئندہ کی سماعت
اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے اہم شخصیات اور اداروں کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:
- سیکرٹری داخلہ
- انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پولیس) اسلام آباد
- ایڈیشنل آئی جی اور چیف کمشنر اسلام آباد
- ڈپٹی سیکرٹری داخلہ اور پبلک سروس کمیشن (FPSC)
اس کے علاوہ عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اس بھرتی کے عمل کے دوران اٹھائے جانے والے تمام اقدامات اس درخواست کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوں گے۔ اس اہم آئینی و قانونی معاملے پر مزید سماعت 28 اکتوبر کو ہوگی۔
G24 News Online عدالتی فیصلوں، قانونی امور اور تمام اہم قومی بریکنگ اپ ڈیٹس غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




