اسلام آباد/قانونی ڈیسک: اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملائیشیا جانے والے شہری محمد سعید خان کو بغیر کسی معقول وجہ کے ایئرپورٹ پر آف لوڈ کرنے کے خلاف دائر کیس میں سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کو آئندہ منگل کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے۔
📌 عدالتی برہمی اور بنیادی ریمارکس
- وجہ بتانے کی سخت ہدایت: کیس کی سماعت کے دوران جسٹس ایاز شوکت نے ریمارکس دیے کہ جس شخص کو بھی آف لوڈ کیا جائے، اس کی واضح وجہ تحریری طور پر لکھی جانی چاہیے۔
- ویزوز میں فرق نہ سمجھنے پر برہمی: سماعت کے دوران ایک خاتون افسر کی جانب سے انویسٹمنٹ ویزا اور وزٹ ویزا کو ایک ہی جیسا قرار دینے پر عدالت نے شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
- بیان حلفی طلب: عدالت نے ایف آئی اے حکام اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے باضابطہ بیانات حلفی جمع کروائیں اور جمع کروائی گئی رپورٹ میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔
🛡️ متعلقہ افسر کی غیر حاضری اور طبی عذر
- پیش نہ ہونے کی وجہ: سماعت کے دوران شہری کو آف لوڈ کرنے والا متعلقہ افسر عدالتی حکم کے باوجود پیش نہیں ہوا، جس پر جسٹس ایاز شوکت نے برہمی کا اظہار کیا۔
- میڈیکل سرٹیفکیٹ کی شرط: اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ جس افسر نے آف لوڈ کیا تھا ان کے والد کو کارڈیک (دل کا) مسئلہ ہے اس لیے وہ پیش نہیں ہو سکے۔ اس پر عدالت نے ہدایت کی کہ اگلی سماعت پر متعلقہ افسر کو پیش کیا جائے اور ساتھ میں ان کا طبی سرٹیفکیٹ بھی لایا جائے۔
📅 ایڈیشنل ڈائریکٹر طلب اور سماعت ملتوی
- ایئرپورٹ معاملات کے ذمہ دار طلب: عدالت کے استفسار پر ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایئرپورٹ کے تمام معاملات ایڈیشنل ڈائریکٹر دیکھتے ہیں۔ جس پر عدالت نے حکم دیا کہ وہ آئندہ منگل کو ذاتی حیثیت میں متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ پیش ہوں۔
- درخواست گزار شہری محمد سعید خان اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ عدالت نے فریقین کو طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت منگل تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔




