تاریخ / مقام: تل ابیب / واشنگتن
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 میں پیش آنے والے ہائی جیکنگ اور کاک پٹ حملے کے واقعے میں روزانہ نئے اور سنسنی خیز انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ اس ہنگامہ خیز واقعے کے دوران ایک اسرائیلی مسافر نے مشہور ٹی وی شو سے حاصل کردہ معلومات کی مدد سے طیارے کو ایک بڑے تباہ کن حادثے سے بچا لیا، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حیرت کا اظہار کیا ہے۔
’ایئر کریش انویسٹی گیشن‘ شو سے سیکھ کر طیارے کے کنٹرول سنبھالنے والے مسافر کی کہانی
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق، جب کاک پٹ کے اندر معاون پائلٹ کی جانب سے حملے کے نتیجے میں طیارہ اچانک 35 ہزار فٹ کی بلندی سے نیچے گرتے ہوئے 18 ہزار فٹ کی سطح پر آ گیا، تو افراتفری پھیل گئی۔ ایسے میں ایک اسرائیلی مسافر یانیو حیون ہمت کر کے کاک پٹ میں داخل ہوا اور اس نے طیارے کے کنٹرول کے ہینڈلز کو پیچھے کھینچ کر نیچے گرتے جہاز کو دوبارہ فضا میں بلند کیا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے گفتگو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ طیارہ اڑانا جانتے تھے، تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ باقاعدگی سے ’ایئر کریش انویسٹی گیشن‘ (Air Crash Investigation) نامی ٹی وی پروگرام دیکھتے ہیں، جہاں سے انہوں نے ہنگامی صورتحال میں طیارہ سنبھالنے کا طریقہ سیکھا تھا۔ کنٹرول سنبھالنے کے بعد طیارہ کچھ حد تک ہموار ہوا، جس دوران زخمی پائلٹ اور دیگر عملے نے آ کر صورتحال پر قابو پا لیا اور پرواز کو سعودی عرب کے شہر تبوک ایئرپورٹ پر بحفاظت اتار لیا گیا۔
بھارتی پائلٹ کی بہادری اور ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل
اسرائیلی وزیراعظم نے پرواز کے بھارتی نژاد کپتان کی بہادری کو بھی زبردست خراج تحسین پیش کیا جنھوں نے شدید زخمی ہونے کے باوجود دلیری سے مقابلہ کیا اور کاک پٹ کا دروازہ کھول کر مسافروں اور عملے کو حملہ آور کو قابو کرنے کا موقع فراہم کیا۔ دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسافر کے اس انکشاف پر شدید حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود یہ پروگرام اس لیے نہیں دیکھتے کہ اس میں برے اور دل دہلا دینے والے واقعات دکھائے جاتے ہیں، تاہم انہوں نے مسافر کے کردار کو انتہائی حیران کن قرار دیا۔
واقعے کے پس منظر اور تحقیقاتی پیشرفت
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور معاون پائلٹ کا تعلق عمان سے تھا جو مبینہ طور پر انتہاپسندانہ نظریات سے متاثر تھا اور قابو کیے جانے کے بعد اس نے مبینہ طور پر ’’مجھے مار دو‘‘ کے الفاظ کہے۔ اسرائیلی حکام اور دیگر بین الاقوامی ادارے اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا حملہ آور کے پاس دوہری شہریت تھی یا اس کا کوئی بیرونی نیٹ ورک یا ایران سے تعلق تھا یا نہیں۔ تاہم رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق ابتدائی جائزوں میں حملہ آور کے اکیلے کارروائی کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ بلیک باکس اور مسافروں کی ویڈیوز سے مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
G24 News Online بین الاقوامی سیکیورٹی، ہوا بازی کے واقعات اور دنیا بھر کی تمام اہم خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




