کراچی/قومی ڈیسک: شہر قائد کے علاقے منگھو پیر میں ڈکیتی کی ایک لرزہ خیز واردات کے دوران ڈاکوؤں کی اندھا دھند فائرنگ سے میٹرک کا پوزیشن ہولڈر 17 سالہ نوجوان جاں بحق ہو گیا ہے۔ ہرزہ آفریں انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ واردات میں ملوث ملزمان میں سے دو افراد پولیس کی وردی میں ملبوس تھے۔ اس اندوہناک واقعے کے بعد لواحقین اور علاقہ مکینوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، جبکہ والد نے ملزمان کی گرفتاری تک تدفین سے انکار کرتے ہوئے دھرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
📌 واقعے کی تفصیلات اور دلخراش مناظر
- گھر میں گھسنے کی کوشش: مقتول کے والد ڈاکٹر روئداد خان نے میڈیا کو بتایا کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب تقریباً 4 بجے جدید اسلحہ سے لیس 6 نقاب پوش ڈاکو ان کے گھر کے دروازے پر آئے، جن میں سے دو افراد باقاعدہ پولیس کی وردی میں ملبوس تھے اور گھر کے اندر زبردستی گھسنے کی کوشش کر رہے تھے۔
- فائرنگ اور نوجوان کی شہادت: نقاب پوش ملزمان کو دیکھ کر والد نے اپنا لائسنس یافتہ پستول نکالا، تاہم اسی دوران ان کا 17 سالہ بیٹا روشم دوسرے کمرے سے باہر آ گیا۔ بیٹے اور ہاتھ میں پستول کو دیکھ کر پولیس وردی میں موجود ڈاکوؤں نے گھبراہٹ میں اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ایک گولی براہِ راست روشم کے سینے پر لگی اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ ملزمان فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے۔
- مقتول کا تعارف: جاں بحق ہونے والا روشم 8 بہنوں اور 2 بھائیوں میں سب سے بڑا تھا (جبکہ دوسرا بھائی معذور ہے) اور اس نے حال ہی میں میٹرک کے امتحان میں شاندار پوزیشن حاصل کی تھی۔
⚖️ پولیس کی غفلت اور اہل خانہ کا احتجاجی اعلان
- علاقے میں مسلسل وارداتیں: مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ ملزمان کے آنے سے پہلے گینگ اسی علاقے کے 4 دیگر گھروں کا بھی صفایا کر چکا تھا، اور کئی ماہ سے وارداتیں ہو رہی ہیں مگر منگھو پیر پولیس تھانہ خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہا ہے اور رات کے وقت پولیس باہر نہیں نکلتی۔
- درخواستوں پر عدم توجہی: دو ماہ قبل علاقہ مکینوں کی جانب سے منگھو پیر تھانے میں جرائم کے خلاف تین باضابطہ درخواستیں دی گئی تھیں، لیکن پولیس نے نہ تو کوئی کارروائی کی اور نہ ہی گشت میں اضافہ کیا جس کی وجہ سے ڈاکوؤں کے حوصلے بلند ہیں۔
- تدفین سے انکار اور دھرنے کا اعلان: والد نے انتہائی جذباتی انداز میں دوٹوک اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ہونہار بیٹے کی لاش اس وقت تک سپرد خاک نہیں کریں گے جب تک درندے ملزمان قانون کی گرفت میں نہیں آ جاتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لاش کے ہمراہ سائٹ حبیب بینک چورنگی، کراچی پریس کلب اور صدر پاکستان آصف علی زرداری کے گھر کے باہر پرامن احتجاجی دھرنا دیں گے۔




