تاریخ / مقام: اسلام آباد / روم (اٹلی)
قومی و بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
وزیر دفاع خواجہ آصف نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا واضح عزم رکھتا ہے اور حوثیوں کے حملوں سے نبردآزما ہونے کے لیے سعودی عرب کو تمام دستیاب وسائل مہیا کیے جائیں گے۔ یہ اہم بیانات انہوں نے دورہ روم کے دوران معروف عالمی ادارے ’عرب نیوز‘ کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں جاری کیے۔
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اور وسائل کی دستیابی
انٹرویو کے دوران جب وزیر دفاع سے سعودی عرب میں موجود پاکستانی فوجیوں کی فضائی حملوں میں شرکت سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے اس کی براہِ راست تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کیا، تاہم یہ واضح کیا کہ پاکستان کی فوجی صلاحیتیں اور وسائل سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے نئے دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے لیے مکمل طور پر دستیاب ہوں گے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ، “جب میں یہ کہتا ہوں کہ اس معاہدے کے تحت ہم سعودی عرب کے دفاع کے پابند ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ جو وسائل ہمارے پاس موجود ہیں وہ سب سعودی عرب کے لیے دستیاب ہوں گے، اور یہ ایک انتہائی واضح بیان ہے۔” انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ سعودی عرب کا کوئی بھی دشمن پاکستان کا دشمن ہے اور اس مؤقف میں کوئی ابہام نہیں پایا جاتا۔
حوثیوں کے حملے اور علاقائی صورتحال
وزیر دفاع نے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملوں اور یمن میں بحیرہ احمر کے ساحل تک ان کا اثر و رسوخ بڑھانے کے اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں جارح قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ سعودی عرب کی جانب سے تاحال باضابطہ کسی خاص مدد کا مطالبہ سامنے نہیں آیا، تاہم پاکستان خطے کے امن اور برادر اسلامی ملک کی سلامتی کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
تہہ در تہہ دفاعی اتحاد اور سیکریٹریٹ کا قیام
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے اس نئے دفاعی معاہدے کی نوعیت پر روشنی ڈالتے ہوئے خواجہ آصف نے بتایا کہ یہ اتحاد خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور یہ کسی بھی تیسرے یا مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ تینوں ممالک اس اتحاد کے تحت ایک مشترکہ سیکریٹریٹ قائم کر رہے ہیں اور اس کا باقاعدہ فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے، البتہ اس معاہدے کی تفصیلی شرائط تاحال عام نہیں کی گئی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ دیگر ممالک نے بھی اس دفاعی اتحاد میں شمولیت کے لیے دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم فی الحال اس اتحاد میں فوری طور پر توسیع کا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں ہے۔
G24 News Online قومی سلامتی، خارجہ امور اور بین الاقوامی سفارت کاری سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




