ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

سیاست

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ؛ صدر آصف علی زرداری نے سمری پر دستخط کر دیے! 🇵🇰⚖️

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ؛ صدر آصف علی زرداری نے سمری پر دستخط کر دیے! 🇵🇰⚖️
Spread the love

تاریخ / مقام: اسلام آباد

قومی و سیاسی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

پاکستان کی سیاسی اور آئینی تاریخ میں بڑا معرکہ؛ وفاقی کابینہ کی منظوری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ترسیل کردہ ایڈوائس پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ حکومت کی جانب سے صدارتی فرمان کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جو کہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔

صدارتی اعلان اور وجوہات

ایوانِ صدر سے جاری کردہ اعلامیے اور صدارتی فرمان میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور امن و امان کی سنگین صورتحال کے باعث شہریوں کی جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اعلامیے کے مطابق:

  • صوبائی حکومت دہشت گردی اور لاقانونیت کے مؤثر تدارک اور امن و امان کی بحالی میں مکمل ناکام رہی۔
  • موجودہ حالات میں صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی، اس لیے آئینی تقاضوں کے تحت گورنر خیبر پختونخوا وفاقی حکومت کی جانب سے تفویض کردہ تمام امور سنبھالیں گے۔
  • صوبائی اسمبلی کے اختیارات اب پارلیمان (وفاقی حکومت) کے تحت استعمال ہوں گے۔
  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبائی وزراء، مشیران، معاونینِ خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل اپنے عہدوں سے فوری طور پر فارغ ہو چکے ہیں۔

وفاقی کابینہ کا اجلاس اور مولانا فضل الرحمان سے آخری رابطہ

اس اہم ترین فیصلہ سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر دفاع خواجہ آصف، رانا ثناء اللہ، سالک حسین اور عطا تارڑ سمیت دیگر اہم ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس کو صوبے میں دہشت گردی کی بگڑتی صورتحال اور صوبائی حکومت کی دانستہ لاتعلقی پر بریفنگ دی گئی۔

ذرائع کے مطابق فیصلہ حتمی شکل دینے سے قبل کابینہ نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ذریعے پختونخوا حکومت کو مذاکرات اور حالات بہتر بنانے کا ایک آخری موقع بھی دیا۔ نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار نے اجلاس کے دوران ہی مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، تاہم مذاکرات کی یہ آخری کوشش بھی بارآور ثابت نہ ہو سکی جس کے بعد کابینہ نے وزیراعظم کو صدارتی ایڈوائس بھیجنے کی تجویز دی۔

ریڈ زون میں سیکیورٹی الرٹ

اس اہم آئینی و انتظامی پیش رفت کے ساتھ ہی اسلام آباد میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کر دیے گئے ہیں۔ وزیراعظم ہاؤس اور شاہراہِ دستور پر پولیس کی اضافی نفری اور بکتر بند گاڑیاں تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔

G24 News Online تمام آئینی و سیاسی پیش رفت اور بریکنگ خبریں غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *