تحریر و تحقیق ۔۔ صالحہ کامران
لاہور میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت مستحق خواتین کو رقوم کی فراہمی اور مالی شمولیت کو مزید شفاف بنانے کے لیے ڈیجیٹل ادائیگی نظام کی تربیتی مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس اہم اقدام کا مقصد مستحق خواتین کو ڈیجیٹل بینکنگ اور نئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے روشناس کرانا ہے تاکہ وہ باآسانی اور بغیر کسی کٹوتی کے اپنی امدادی رقم حاصل کر سکیں۔
ڈیجیٹل ادائیگی نظام سے متعلق آگاہی پر زور
تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے بی آئی ایس پی کے ایڈیشنل سیکریٹری ڈاکٹر عصمت نواز نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی نظام کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے کے لیے عملے کی تربیت، استعداد کار میں اضافہ اور خواتین مستحقین میں آگاہی پیدا کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مہم کا مقصد خواتین کو نئے ڈیجیٹل نظام سے روشناس کرانا ہے تاکہ وہ اپنی مالی امداد وصول کرتے وقت طریقۂ کار اور ضروری حفاظتی اقدامات سے واقف ہوں۔
خواتین ملک بھر میں مجاز ریٹیلرز سے رقم نکلوا سکیں گی
تربیتی سیشن میں بتایا گیا کہ ادائیگی کی تصدیقی ایس ایم ایس موصول ہونے کے بعد مستحق خواتین متعلقہ بینک کے منظور شدہ ایجنٹس یا دکانوں سے سے ملک کے کسی بھی شہر میں اپنی رقم نکلوا سکیں گی۔اس سہولت سے خواتین کو مخصوص ادائیگی مراکز پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ سفر کے اخراجات اور رقم وصول کرنے میں پیش آنے والی مشکلات بھی کم ہو سکتی ہیں۔ڈیجیٹل ادائیگیوں کے اس طریقۂ کار کا مقصد مالی امداد کی وصولی کو زیادہ آسان، قابل رسائی اور شفاف بنانا ہے۔
موبائل فون اور ڈیجیٹل والیٹ کی حفاظت ضروری
ڈاکٹر عصمت نواز نے بی آئی ایس پی کے عملے پر زور دیا کہ وہ خواتین کو ڈیجیٹل والیٹ استعمال کرنے، موبائل فون اور سم کی حفاظت کرنے اور ادائیگی سے متعلق ایس ایم ایس محفوظ رکھنے کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کریں۔
خواتین مستحقین کو چاہیے کہ وہ اپنے موبائل فون اور سم کسی غیر متعلقہ شخص کے حوالے نہ کریں اور اپنی مالی امداد وصول کرتے وقت رقم کی مکمل تصدیق کریں۔
غیر قانونی کٹوتیوں کے خلاف کارروائی
تربیتی نشست میں واضح کیا گیا کہ مستحق خواتین کی امدادی رقم سے غیر مجاز کٹوتیاں برداشت نہیں کی جائیں گی۔ اگر کسی خاتون کو رقم وصول کرنے میں شکایت ہو یا اس کی ادائیگی سے غیر قانونی کٹوتی کی جائے تو وہ بی آئی ایس پی کی ہیلپ لائن080026477 پر رابطہ کر سکتی ہے یا اپنے متعلقہ تحصیل دفتر میں شکایت درج کروا سکتی ہے۔
حکام اور متعلقہ اداروں کی شرکت
تربیتی نشست میں بی آئی ایس پی کے مختلف شعبوں کے اعلیٰ افسران اور عملے نے شرکت کی۔ اس مہم کے انعقاد میں یونیسیف کے سوشل پالیسی سیکشن کے تعاون کو بھی سراہا گیا۔
مہم کے نمایاں خد و خال
مذکورہ تربیتی مہم کے دوران لاہور کے مختلف زونز اور قریبی اضلاع میں خصوصی آگاہی کیمپ لگائے جا رہے ہیں۔ ان کیمپوں میں فیلڈ اسٹاف کی جانب سے خواتین کو درج ذیل امور پر بریفنگ دی جا رہی ہے:
- بائیومیٹرک تصدیق: بائیومیٹرک کے ذریعے رقوم کی وصولی کا محفوظ طریقہ کار۔
- شکایات کا ازالہ: رقوم کی وصولی میں مشکلات یا کسی قسم کی کٹوتی کی صورت میں فوری شکایت درج کرانے کے ہیلپ لائن نمبرز اور طریقے کار۔
- موبائل وائلٹس: ڈیجیٹل وائلٹس اور بینک اکاؤنٹس کے استعمال کے بنیادی اصول۔
ڈیجیٹل نظام سے خواتین کو کیا فائدہ ہوگا؟
ڈیجیٹل ادائیگی نظام کے مؤثر نفاذ سے خواتین کو مالی امداد تک رسائی میں آسانی، سفر کے اخراجات میں کمی اور ادائیگیوں کے عمل کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، اس نظام کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کو بروقت معلومات، محفوظ طریقۂ کار اور شکایات کے ازالے کی سہولت فراہم کی جائے۔
حکام کا مؤقف
متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا یہ نیا ڈیجیٹل نظام غریب طبقے کو بااختیار بنانے کی جانب ایک انقلابی قدم ہے۔ اس مہم سے نہ صرف مستحقین کا وقت بچے گا بلکہ وہ مالیاتی نظام سے براہ راست جڑ جائیں گے۔
نتیجہ:
لاہور سے شروع ہونے والی یہ تربیتی مہم بی آئی ایس پی کے ڈیجیٹل ادائیگی نظام سے متعلق آگاہی بڑھانے کی کوشش ہے۔ خواتین مستحقین کو نئے طریقۂ کار سے مکمل طور پر آگاہ کرنا اور ان کی رقم کو غیر مجاز کٹوتیوں سے محفوظ رکھنا اس اقدام کے اہم پہلو ہیں۔




