ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

🏛️ نئے انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے، کوئی فرد یا جماعت نہیں روک سکتی؛ وزیر داخلہ محسن نقوی کا دوٹوک اعلان

🏛️ نئے انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے، کوئی فرد یا جماعت نہیں روک سکتی؛ وزیر داخلہ محسن نقوی کا دوٹوک اعلان
Spread the love

لاہور/قومی ڈیسک: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں ’قومی پالیسی مکالمہ‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے بوسیدہ نظام کو ری سیٹ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عہدہ رہے یا نہ رہے، وہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، اور اگر عوام یہی چاہتی ہے تو یہ تبدیلی ہو کر رہے گی۔

📌 نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں سے متعلق اہم نکات

  • عوام کی مرضی بنیادی شرط: وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس یا صوبے بنانے کا فیصلہ کسی ایک حکومت، فرد یا سیاسی جماعت کی مرضی سے نہیں بلکہ صرف عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے۔ اگر پاکستانی عوام چاہتی ہے تو یہ یونٹس بننے چاہییں، اور اگر عوام نہیں چاہتی تو کسی صورت نہیں بنیں گے۔
  • اسلام آباد کو صوبہ بنانے کی حمایت: محسن نقوی نے کھل کر کہا کہ وہ اسلام آباد کو صوبہ بنانے کے سب سے بڑے حامی ہیں اور اس مطالبے پر سب کو مل کر آواز اٹھانی چاہیے۔
  • شناخت برقرار رہے گی: انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ انتظامی تقسیم سے کسی کی قومی یا لسانی شناخت متاثر ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی یا شمالی پنجاب بننے سے پنجابی شناخت اور سندھ کے یونٹس بننے سے سندھی شناخت ختم نہیں ہوگی، کیونکہ ان کا مقصد حکومتوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ حکمرانی کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔

⚙️ نظام کی ری سیٹنگ اور اختیارات کی منتقلی

  • 79 سال بعد بھی مطلوبہ نتائج کا حصول ناممکن: محسن نقوی نے کہا کہ ملک کو بنے 79 سال گزر جانے کے باوجود ہم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پا رہے، اس لیے نظام کو ری سیٹ کرنا ناگزیر ہے۔
  • خاندان کی مثال اور بڑھتی ہوئی آبادی: وزیر داخلہ نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے جیسے خاندان اور آبادی بڑھتی ہے، رہنے کے لیے ایک گھر سے زیادہ گھروں کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسی طرح بڑھتی ہوئی آبادی اور ضروریات کے پیش نظر انتظامی ڈھانچے کو بھی تبدیل کرنا ہوگا۔
  • بیوروکریسی پر سوالات: انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایک بیوروکریٹ سات سے چودہ کروڑ آبادی کے تمام فیصلے اکیلے کر سکتا ہے؟ ایک شہر میں بیٹھ کر اتنی بڑی آبادی کا نظام چلانا ممکن نہیں۔

🛑 جذباتی تقاریر سے گریز اور آئینی دائرہ کار

  • جذباتی نہ ہونے کا مشورہ: وزیر داخلہ نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹو یونٹس کے حوالے سے آج کل بہت جذباتی تقاریر ہو رہی ہیں، لیکن کسی کو بھی اس پر جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ کوئی ایسا کام نہیں جو کل یا پرسوں ہونے جا رہا ہے۔
  • آئین اور قانون کی پابندی: انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام فیصلے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر سیاسی اتفاق رائے سے کیے جائیں گے، اور کسی بھی غیر قانونی اقدام کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *