اسلام آباد/ قومی ڈیسک: اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد قومی اسمبلی کی ہیلتھ کمیٹی کے چیئرمین اور اراکین نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا ہے، جہاں ناقص انتظامات اور غفلت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر صحت اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز سے فوری استعفے کا مطالبہ کر دیا گیا ہے۔
📌 ہیلتھ کمیٹی کا دورہ، جائے وقوعہ کا معائنہ اور انتظامی سوالات
- آگ کے ماخذ کا پتا نہیں: قومی اسمبلی کی ہیلتھ کمیٹی کے چیئرمین مہیش کمار نے پمز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “کل جو واقعہ ہوا، اس سے ہولناک اور کیا ہو سکتا ہے؟” انہوں نے بتایا کہ کمیٹی نے خود آج جائے وقوعہ کا جائزہ لیا ہے، لیکن تاحال آگ کے اصل ماخذ (Source of Fire) کا کسی کو کچھ پتا نہیں۔
- سی سی ٹی وی فوٹیজ اور نرسری کا مقام: نرسز کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کام میں مصروف تھیں، جبکہ سی سی ٹی وی کے بارے میں پوچھنے پر ای ڈی صاحب کی جانب سے بتایا گیا کہ ویڈیوز واضح نہیں ہیں۔ کمیٹی کے خیال میں نرسری کی یہاں موجودگی ہی غلط تھی، اور کمیٹی اس پورے معاملے کی مکمل میرٹ پر جانچ کرے گی۔
- فائر سیفٹی ڈرل اور آڈٹ پر سوالات: کمیٹی کے رکن گل اصغر نے انتظامیہ سے کڑے سوالات کرتے ہوئے پوچھا کہ پچھلے 30 سالوں میں الیکٹریسٹی اور فائر الارم کے حوالے سے کتنے آڈٹ ہوئے ہیں اور آخری بار فائر سیفٹی ڈرل کب کروائی گئی تھی۔
🛑 وزیر صحت اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے استعفے کا مطالبہ
- استعفوں کا پرزور مطالبہ: کمیٹی ممبر ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اور رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے پمز اسپتال میں المناک سانحے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے وزیر صحت اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز سے فوری استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
- عالیہ کامران کا موقف: عالیہ کامران نے کہا کہ صرف سیکریٹری صحت کو گھر بھیجنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اس نظام کو رنگ روڈ طرز پر بہتر جگہ پر منتقل کرنا ہوگا۔
- تکنیکی فالٹ یا نااہلی: چیئرمین مہیش کمار کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ کوئی تکنیکی فالٹ تھا یا سراسر انتظامی نااہلی، اور نوزائیدہ بچوں کی نرسری میں کیے جانے والے سیفٹی اقدامات کا جائزہ لینے کے ساتھ ہم فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کا بھی انتظار کریں گے۔
😢 اسپتال میں زیرِ علاج مریضوں کے لواحقین کا غم و غصہ اور فریاد
- لواحقین کی دہائی: پریس کانفرنس کے دوران اسپتال میں موجود داخل مریضوں کے لواحقین کا غصہ اور غم بھی پھٹ پڑا۔ لواحقین کا کہنا تھا کہ جو جاں بحق ہو گئے وہ تو اللہ کو پیارے ہو گئے، لیکن کم از کم جو زندہ ہیں ان کے لیے کچھ کریں۔
- منتقلی اور مشکلات: ایک لواحق نے روتے ہوئے بتایا کہ کل اس کی بیوی کا آپریشن ہے، جبکہ دوسرے نے شکوہ کیا کہ اسے زبردستی بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی منتقل کیا جا رہا ہے۔ لواحقین نے پرزور مطالبہ کیا کہ کچھ ایسا کیا جائے کہ جو معصوم بچے زندہ بچ گئے ہیں، ان کی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔




