تاریخ / مقام: اسلام آباد
قومی و پارلیمانی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت جاری ہے، جس میں خیبرپختونخوا میں 11 اکتوبر 2026 کو نافذ کی جانے والی ایمرجنسی کی توثیق کی قرارداد پر ایوان میں انتہائی سنجیدہ اور گرما گرم بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ اجلاس کے دوران وفاقی وزراء، اتحادی رہنماؤں اور اپوزیشن ارکان کی جانب سے دلائل کا تبادلہ کیا گیا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کا دوٹوک مؤقف
قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ماضی کے فیصلوں اور موجودہ سیکیورٹی بحران پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں کس طرح دہشت گردوں کو واپس لانے کے لیے مشورے دیے جاتے رہے ہیں۔
- خواجہ آصف نے کہا کہ وہ خود بھی قید و بند کی صعوبتیں کاٹ چکے ہیں اور اٹک جیل کے 6/4 کے سیل میں رہے ہیں، جہاں شہباز شریف کی جانب سے انہیں کمبل بھجوایا گیا تھا، لیکن انہوں نے کبھی اپنے ذاتی مسائل کو قومی سلامتی پر ترجیح نہیں دی۔
- انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ وزیر اعلیٰ اپنی لیز کنفرم کروانے کے لیے سیاست کر رہے تھے اور ان کی ڈکٹیشن افغانستان میں بیٹھے افراد سے لی جاتی تھی۔
- انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی ایک ایسا ناسور ہے جس کے خلاف پوری قوم اور تمام جماعتوں کو بلا تفریق متحد ہو کر لڑنا ہوگا۔
بلاول بھٹو کی مصالحتی تجویز
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ایک بار پھر زور دیا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن ملک کی بقا اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو بات چیت کی میز پر آنا چاہیے۔
- انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کا نفاذ مجبوری کے تحت اٹھایا گیا قدم ہے جو ہمیشہ کے لیے نہیں رہے گا، لیکن ریاست کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل ناگزیر ہے۔
- انہوں نے بھارت کی حالیہ ہرزہ سرائی اور خطے کے بدلتے ہوئے حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر ہمیشہ اہم ذمہ داریاں نبھائی ہیں، اور اگر ضرورت پڑی تو تمام سیاسی قوتیں ملک دشمن عناصر کا بھرپور مقابلہ کریں گی۔
وزیر قانون اور اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ
اس سے قبل وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سال 2026 کے دوران کے پی میں 3,700 سے زائد دہشت گردانہ واقعات رونما ہوئے، اور صوبائی حکومت کی جانب سے امن و امان کے قیام میں ناکامی پر مجبوری کے تحت یہ آئینی اقدام اٹھانا پڑا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ مذاکرات کے دوران اپوزیشن کا سارا زور بانی پی ٹی آئی کی جیل سہولیات پر تھا نہ کہ دہشت گردی کے خاتمے کی حکمت عملی پر۔
دریں اثنا، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ماضی کی غلط پالیسیوں نے حالات کو اس نہج پر پہنچایا ہے، اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کرنے کے بجائے آئین و قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے اور ایوان میں قرارداد پر بحث کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
G24 News Online پارلیمانی کارروائی، ملکی سیاست اور تمام اہم قومی بریکنگ اپ ڈیٹس غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




