تاریخ / مقام: اسلام آباد
قومی و سیاسی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
پاکستان کی تمام اہم اپوزیشن جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں نے ملک کی مجموعی سیاسی و معاشی صورتحال، پارلیمانی حقوق اور حکومت کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے اہم ترین اور تفصیلی مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے۔ پریس کانفرنس میں اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس اور چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے بریفنگ دی۔
اپوزیشن رہنماؤں نے واضح الفاظ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کو مذاق بنا دیا گیا ہے، اور اگر اب حکومت واقعی سیاسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہے تو وزیراعظم خود باضابطہ دعوت دیں، ورنہ کسی کی سنجیدگی کا مزید استحصال نہیں ہونے دیا جائے گا۔
محمود خان اچکزئی: پارلیمانی ریکارڈ، جمہوریت اور کرپشن کی انکوائری
محمود خان اچکزئی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں کی تقاریر کا ریکارڈ محفوظ رکھنا آئینی تقاضہ ہے تاکہ عوام فیصلہ کر سکیں کہ ان کے نمائندے پارلیمنٹ میں کیا کہتے ہیں۔ انہوں نے اسپیکر کے اختیارات کو قوانین کی کتاب کے مطابق چلانے اور تمام ارکان کے پروڈکشن آرڈرز بغیر کسی تفریق کے جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
محمود خان اچکزئی نے اپنی حالیہ تقریر کے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا:
“میں نے اپنی تقریر میں ایک لفظ بھی ملک کے خلاف نہیں کہا، مگر میری ساڑھے چار منٹ کی تقریر کو نو منٹ بنا کر پیش کیا گیا۔ فرانس میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے اور سینکڑوں گاڑیاں جلا دی گئیں لیکن وہاں مظاہرین پر گولیاں نہیں چلائی گئیں۔ ہم نے سیاسی مذاکرات کے لیے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا مطالبہ کیا تھا اور ہماری ہی سنجیدگی کی وجہ سے مولانا فضل الرحمان وزیراعظم سے ملنے گئے تھے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں اور ان کی تحقیقات کے لیے خواجہ آصف کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم ہونی چاہیے۔ ہم غیر جمہوری نظام کے خلاف جمہوری انداز میں لڑتے رہیں گے کیونکہ غیر جمہوری راستہ ملک کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔
علامہ راجہ ناصر عباس: آئین کی حکمرانی اور عوامی مینڈیٹ
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش سیاسی اور معاشی بحران کا واحد حل قانون اور آئین کی حکمرانی میں پنہاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکمرانوں اور عوام کے درمیان اعتماد کا فقدان اس وقت تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے جس کے باوجود اپوزیشن پر جعلی مقدمات اور ایف آئی آرز کا سلسلہ بند نہیں ہو رہا۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے مؤقف اختیار کیا کہ 8 فروری 2026ء کو عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا جو عوام کے حقِ رائے دہی اور آئین پر براہِ راست حملہ ہے۔
بیرسٹر گوہر: ریاست سے وفاداری، سیاسی انتقام اور دہشت گردی
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کی مدت کے تین سال مکمل ہونے کو ہیں لیکن آج تک اپوزیشن کو ریاست سے وفاداری کا فارمولا سمجھ نہیں آ سکا۔
بیرسٹر گوہر کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- وفاداری کا تصور: ہمارے لیے سب سے پہلے پاکستان اور ریاست ہے۔ اپوزیشن ارکان سے ایسا سلوک بند ہونا چاہیے جیسے وہ ریاست کے وفادار نہیں ہیں۔
- سیاسی خاندان کی قید: بانی پی ٹی آئی سے بلا تاخیر ملاقات کروائی جائے۔ بانی کی اہلیہ، تین بہنیں، بھتیجا اور کزن جیل میں قید ہیں جس پر قوم ہم سے سوال پوچھ رہی ہے۔
- پارلیمنٹرینز کا تحفظ: ستمبر 2024ء میں ارکانِ اسمبلی کو اٹھائے جانے پر جو خصوصی کمیٹی بنی تھی، اس کا مقصد ارکان کو تحفظ دینا تھا تاکہ وہ آزادی سے بات کر سکیں۔
- تختیاں توڑنے کی سیاست: پی ٹی آئی کی تختیوں کو توڑ کر عوام کے دل توڑے جا رہے ہیں جبکہ ن لیگ کی تختیاں محفوظ ہیں۔
- دہشت گردی کے خلاف آپریشن: ہم دہشت گردی کو ناسور سمجھتے ہیں اور نیشنل ایکشن پلان (NAP) کے تحت تمام کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں، لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی انتقام، تبادلوں اور پارٹی مٹانے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
G24 News Online تمام سیاسی پیش رفت، پارلیمانی کارروائیوں، اور اپوزیشن و حکومت کی خبریں غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




