تاریخ / مقام: پشاور / اسلام آباد
قومی و سیاسی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی نے خیبر پختونخوا میں وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو متفقہ طور پر یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ تین گھنٹے طویل اجلاس کے اعلامیے کے مطابق ایمرجنسی کا نفاذ غیر آئینی، غیر جمہوری، حقائق کے منافی اور صوبے کے کروڑوں عوام کے مینڈیٹ پر براہِ راست حملہ ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ منتخب صوبائی حکومت کو غیر مؤثر بنانا وفاقی نظام اور جمہوری استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، جس سے وفاق اور صوبے کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔
بلوچستان کی صورتحال سے تقابل اور سیاسی انتقام کا الزام
پارلیمانی پارٹی نے اپنے اعلامیے میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے وفاقی حکومت کے طرزِ عمل پر سخت سوالات اٹھائے۔ پی ٹی آئی نے سوال کیا کہ:
- اگر سیکیورٹی اور دہشت گردی ہی ایمرجنسی کا جواز ہے تو بلوچستان کو کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے جہاں صورتحال زیادہ ابتر ہے؟
- تمام صوبوں کے لیے ایک ہی آئینی اور قانونی معیار کیوں نہیں اپرایا جا رہا؟
- ایمرجنسی کا اصل مقصد امن کا قیام نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی حکومت کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا ہے۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ پی ٹی آئی دہشت گردی کی ہر شکل کی غیر مشروط مذمت کرتی ہے اور اس کے خاتمے کے لیے کے پی اسمبلی کی قرارداد اور امن جرگے کی سفارشات کو نافذ کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور جنید اکبر کی گرفتاری کی مذمت
پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی نے کے پی کے منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی باضابطہ گرفتاری کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ کے اختیارات کو اس طرح سلب کرنا خطرناک نظیر قائم کر رہا ہے۔ اعلامیے میں صوبائی صدر جنید اکبر خان اور دیگر منتخب نمائندوں کی گرفتاریوں اور ایم پی او (MPO) کے بے جا استعمال کی بھی شدید مذمت کی گئی اور تمام رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔
آئی جی کے پی اور پولیس کے کردار پر تشویش
اعلامیے میں آئی جی پولیس خیبر پختونخوا کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے الزامات عائد کیے گئے کہ وفاق کے دباؤ میں آکر بلاجواز گرفتاری کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ پی ٹی آئی نے اعلان کیا کہ عوامی مینڈیٹ، آئین کی بالادستی اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ کے لیے وہ تمام legal اور آئینی فورمز سے رجوع کرے گی۔
G24 News Online تمام قومی پیش رفت، پارلیمانی ردِعمل اور اہم بریکنگ خبریں غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




