تحریر و تحقیق ۔۔ صالحہ کامران
وزیراعظم کی خصوصی ہدایت کے تحت وفاقی حکومت کے موثر معاشی اقدامات اور تجارتی پالیسیوں کے نتیجے میں ملکی برآمدات 30.139 ارب ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ معاشی ماہرین اس سنگِ میل کو ملکی معیشت کی بحالی اور روزگار کے نئے مواقع کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم پیشرفت قرار دے رہے ہیں۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2015-16 میں برآمدات 20.787 ارب ڈالر تھیں، جو بڑھ کر 2025-26 میں 30.139 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ یوں تقریباً ایک دہائی کے دوران برآمدات میں 45 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
1. برآمدات میں اضافے کے اہم اسباب
حکومتی اصلاحات اور برآمد کنندگان کی سہولت کاری کے باعث مختلف شعبوں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے:
- ٹیکسٹائل اور ملبوسات: کوالٹی میں بہتری اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے نتیجے میں ٹیکسٹائل کی برآمدات میں ریکارڈر اضافہ ہوا۔
- زرعی و غذائی مصنوعات: چاول، پھل اور سبزیوں کی بین الاقوامی طلب پوری کرنے کے لیے برآمدی سہولیات میں اضافہ کیا گیا۔
- آئی ٹی اور خدمات کا شعبہ: ڈیجیٹل اکانومی اور فری لانسرز کے لیے فراہم کردہ مراعات سے سروسز سیکٹر کا حجم بڑھا۔
- صنعتی مراعات: برآمدی انڈسٹری کو خام مال پر ڈیوٹی کی چھوٹ اور توانائی پر رعایت دی گئی۔
2. معیشت پر مثبت اثرات
برآمدی حجم 30.139 ارب ڈالر تک پہنچنے کے معاشی اثرات درج ذیل ہیں:
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذخائر مظبوط ہوئے اور معاشی استحکام آیا۔
ڈالر کے مقابلے روپیہ مستحکم ہوا اور برآمد کنندگان کی اعتماد سازی ہوئی۔
درآمدات پر کنٹرول اور برآمدات بڑھنے سے تجارتی خسارے میں نمایاں کمی آئی۔
صنعتی پیداوار بڑھنے سے ہزاروں نئے روزگار پیدا ہوئے ۔
3. مستقبل کا وژن اور آئندہ کے اہداف
حکومت نے تجارتی اصلاحات کے اس سلسلے کو مزید آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے:
- مصنوعات کا تنوع (Diversification): صرف روایتی مصنوعات پر انحصار ختم کر کے الیکٹرانکس، انجینئرنگ اور فارماسیوٹیکل مصنوعات کی برآمدات بڑھانا۔
- نئی عالمی منڈیاں: افریقہ، وسطی ایشیا اور لاطینی امریکہ کی منڈیوں تک تجارتی رسائی حاصل کرنا۔
- صنعتی جدید کاری: مقامی صنعتوں میں عالمی معیارات کی پاسداری اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا۔
خبر کے مطابق وزیراعظم نے برآمدات میں اضافے کو خصوصی توجہ کا مرکز بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اس سلسلے میں برآمد کنندگان کے مسائل حل کرنے، کاروباری ماحول بہتر بنانے اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے برآمدی شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے صنعت، کاروبار اور برآمد کنندگان کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق برآمدات میں مستقل اضافہ ملکی معیشت کے استحکام، زرمبادلہ کے حصول اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
حکومت کا مقصد برآمدات میں مزید اضافہ کرتے ہوئے پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں رسائی بڑھانا اور صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانا ہے۔
30.139 ارب ڈالر کی برآمدات ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
ملکی برآمدات کا 30 ارب ڈالر کے ہدف سے تجاوز کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پائیدار معاشی حکمت عملی اور صنعتی سرپرستی سے پاکستان اپنے تمام معاشی اہداف حاصل کر سکتا ہے۔




