ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

بلاگ

پاکستان میں سیاحت کا روشن مستقبل: شمالی علاقہ جات سے ہٹ کر نئے اور مسحور کن مقامات

پاکستان میں سیاحت کا روشن مستقبل: شمالی علاقہ جات سے ہٹ کر نئے اور مسحور کن مقامات
Spread the love

تحریر و تحقیق ۔۔ صالحہ کامران

پاکستان کو قدرت نے ایسے بے شمار خوبصورت مقامات سے نوازا ہے جہاں پہاڑ، صحرا، ساحل، تاریخی عمارتیں، جھیلیں اور قدیم تہذیب کے آثار ایک ساتھ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ عام طور پر پاکستان میں سیاحت کا ذکر ہو تو ذہن فوراً گلگت بلتستان، سوات، ناران، کاغان اور ہنزہ کی طرف جاتا ہے، تاہم ملک کے دیگر حصوں میں بھی کئی ایسے کم معروف مقامات موجود ہیں جو سیاحوں کی توجہ کے مستحق ہیں۔
اگر ان مقامات کو بہتر انداز میں متعارف کرایا جائے، بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں اور مقامی سطح پر سیاحتی انفرااسٹرکچر بہتر بنایا جائے تو پاکستان کی سیاحت ملکی معیشت کے لیے ایک اہم شعبہ بن سکتی ہے۔

​۱. بلوچستان کے پوشیدہ موتی

  • ​جزیرہ ہفت تلار (Astola Island): گوادر کے قریب بحیرہ عرب میں واقع یہ پاکستان کا سب سے بڑا غیر آباد جزیرہ ہے۔ اس کا نیلا شفاف پانی، مرجانی چٹانیں (Coral Reefs) اور پرسکون ماحول اسے سکوبا ڈائیونگ اور کیمپنگ کے لیے دنیا کے بہترین مقامات میں شمار کرتا ہے۔
  • ​ہنگول نیشنل پارک اور کُنڈ ملیر: یہ ساحل اور صحرا کا ایک نادر سنگم ہے۔ مٹی کے قدرتی مجسمے، امولک مندر، اور ڈریگن کے مجسمے جیسی چٹانیں سیاحوں کو ایک بالکل مختلف دنیا کا احساس دلاتی ہیں۔
  • بلوچستان پاکستان کے ان علاقوں میں شامل ہے جہاں قدرتی حسن کے باوجود سیاحتی سرگرمیاں نسبتاً کم ہیں۔ ہنگول نیشنل پارک اپنی منفرد پہاڑی ساخت، وسیع وادیوں اور قدرتی مناظر کی وجہ سے ایک دلچسپ سیاحتی مقام ہے۔

​۲. سندھ کے تاریخی اور قدرتی مقامات

  • ​گورکھ ہل اسٹیشن (Gorakh Hill Station): دادو میں واقع اس مقام کو “سندھ کا مری” کہا جاتا ہے۔ سطح سمندر سے تقریباً 5,600 فٹ کی بلندی پر واقع یہ پہاڑی سلسلا سردیوں میں انتہائی ٹھنڈا ہوتا ہے اور رات کو ستارے دیکھنے (Stargazing) کے لیے بہترین جگہ ہے۔
  • ​تھرپارکر کے کارونجھر پہاڑ: ننگرپارکر میں واقع یہ گرینائٹ کے گلابی اور سرمئی پہاڑ بارشوں کے بعد زندہ ہو اٹھتے ہیں۔ ان پہاڑوں کی تاریخی داستانیں اور موروں کا رقص سیاحوں کو سحر انگیز کر دیتا ہے۔
  • کیرتھر نیشنل پارک قدرتی مناظر اور جنگلی حیات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے اہم مقام ہے۔
  • اسی طرح رنی کوٹ قلعہ اپنی وسیع فصیل اور تاریخی اہمیت کے باعث سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتا ہے۔ سندھ کے قدیم شہر اور تاریخی مقامات بھی ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے دلچسپی کا باعث بن سکتے ہیں۔

​۳. پنجاب کی وادیاں اور صحرا

  • ​وادیِ سون (Soan Valley): ضلع خوشاب میں واقع یہ وادی جھیلوں، غاروں اور سرسبز پہاڑوں کا گہوارہ ہے۔ اوچھالی اور خبریکی جھیلیں خاص طور پر نایاب پرندوں کی مسکن ہیں اور پرسکون وقت گزارنے کے لیے بہترین انتخاب ہیں۔
  • ​قلعہ دراوڑ اور چولستان: بہاولپور کے قریب واقع چولستان کا صحرا اور قلعہ دراوڑ ملکی تاریخ، روایتی جیپ ریلی اور صحرائی راتوں کی کیمپنگ کے لیے زبردست تجربہ فراہم کرتے ہیں۔
  • ٹیکسلا کے قدیم آثار برصغیر کی تاریخ اور بدھ مت کے ورثے سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
  • اسی طرح قلعہ روہتاس، ملتان کے تاریخی مزارات، بہاولپور کے محلات اور قلعے پنجاب کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کو نمایاں کرتے ہیں۔ ان مقامات کو ایک مربوط ٹورازم سرکٹ کا حصہ بنایا جائے تو مقامی سیاحت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

​۴. خیبر پختونخوا کے غیر معروف گوشے

  • ​وادیِ ترینج (Tirinche Valley, Chitral): چترال کے اندرونی حصوں میں واقع یہ وادی کوہِ ہندوکش کی بلند ترین چوٹی (ترچ میر) کے دامن میں ہے۔ یہاں کی خاموشی اور قدرتی رنگ شمالی پاکستان کے ہجوم سے دور سکون تلاش کرنے والوں کے لیے ایک نعمت ہیں۔
  • ​شندور اور گاہکوچ کے قریبی علاقے: اگرچہ شندور کا پولو میلہ مشہور ہے، لیکن اس کے ارد گرد واقع چھوٹی وادیاں اور جھیلیں اب بھی تجارتی سیاحت کے اثرات سے پاک اور بکر (unspoiled) ہیں۔
  • کالام اور مالم جبہ سے آگے بھی خیبر پختونخوا میں کئی مقامات سیاحوں کی توجہ کے منتظر ہیں۔ کُمراٹ ویلی اپنے گھنے جنگلات، دریائے پنجکوڑہ اور بلند پہاڑوں کے باعث قدرتی حسن کا شاندار نمونہ ہے۔
  • گبین جبہ، شنگلہ اور بونیر کے پہاڑی علاقے بھی قدرتی مناظر، سرسبز وادیوں اور پُرسکون ماحول کے باعث سیاحت کے لیے بہترین امکانات رکھتے ہیں۔ جبکہ مہمند اور خیبر کے تاریخی و ثقافتی مقامات پاکستان کی قدیم تاریخ اور مقامی روایات سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے اہم ہیں۔

سیاحت کے فروغ سے معیشت کو فائدہ
سیاحت صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ روزگار اور مقامی معیشت کو مضبوط بنانے کا اہم وسیلہ بھی بن سکتی ہے۔ ہوٹل، ریسٹورنٹس، ٹرانسپورٹ، ٹور گائیڈز، مقامی دستکاری اور چھوٹے کاروبار سیاحوں کی آمد سے براہِ راست فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ کم معروف مقامات تک سڑکوں، صفائی، رہائش، معلوماتی مراکز اور دیگر بنیادی سہولیات کو بہتر بنایا جائے۔ ساتھ ہی قدرتی ماحول اور تاریخی ورثے کے تحفظ کو بھی ترجیح دی جائے۔

پاکستان کا سیاحتی نقشہ مزید وسیع کرنے کی ضرورت
پاکستان کے سیاحتی امکانات شمالی علاقہ جات تک محدود نہیں۔ بلوچستان کے ساحل، سندھ کے تاریخی مقامات، پنجاب کے قلعے اور آثارِ قدیمہ، جنوبی پنجاب کے صحرائی علاقے اور خیبر پختونخوا کی خوبصورت وادیاں مل کر پاکستان کو ایک متنوع سیاحتی منزل بنا سکتی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ کم معروف مقامات کو بھی قومی اور عالمی سطح پر متعارف کرایا جائے اور وہاں بنیادی سہولیات کے ساتھ قدرتی ماحول اور تاریخی ورثے کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

حکومت اور نجی سیاحتی کمپنیوں کو چاہیے کہ ان علاقوں میں سڑکوں کی رسائی، صاف ستھرے قیام گاہوں اور ماحولیاتی تحفظ (Ecotourism) کو یقینی بنائیں۔ جب پاکستان کا ہر صوبہ اپنے ان چھپے ہوئے موتیوں کو دنیا کے سامنے پیش کرے گا، تو ملکی سیاحت واقعی ایک روشن اور پائیدار دور میں داخل ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *