تاریخ / مقام: پشاور / اسلام آباد
قومی و حادثات ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی دیر کالونی میں واقع نجی ‘الخیر پبلک اسکول’ کی عمارت زمین بوس ہونے کے بھیانک سانحے میں 33 معصوم بچوں اور 2 خواتین اساتذہ سمیت 35 افراد کی شہادت کے بعد صورتحال انتہائی دردناک اور سوگوار ہو گئی ہے۔ واقعہ کے بعد جہاں پاک فوج اور ریسکیو اداروں نے ملبے سے لاشیں اور زخمیوں کو نکالا، وہاں صوبائی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے سخت ترین قانونی و انتظامی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔

مالک کی گرفتاری اور دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کا اعلان
سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید کے مطابق اسکول کے مالک خان محمد کو موقع سے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اسکول انتہائی تنگ گلیوں میں بغیر کسی باقاعدہ انسپکشن اور خستہ حالی کے باوجود چلایا جا رہا تھا جس میں 110 بچے زیرِ تعلیم تھے۔
آئی جی خیبرپختونخوا نے میڈیا کو بتایا کہ ایف آئی آر ریاست کی مدعیت میں درج کی جا رہی ہے اور اسکول مالک کے خلاف مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن جن سرکاری اداروں کی غفلت سامنے آئے گی ان کے خلاف اسپیشل برانچ کی رپورٹ پر سخت کارروائی ہو گی۔
دوسری جانب، گرفتار اسکول مالک خان محمد نے اپنے بیان میں کہا کہ “واقعہ حادثاتی تھا، میٹیریل ناقص نہیں تھا اور اسکول کا نقشہ پاس کروایا گیا تھا”۔ تاہم ایم ڈی پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی (PSRA) جاوید اقبال نے اعتراف کیا کہ یہ اسکول مارچ 2026 میں رجسٹرڈ ہوا تھا، لیکن اتھارٹی کے پاس بلڈنگ معائنے کے لیے ٹیکنیکل ٹیم موجود نہیں ہوتی۔

وزیراعظم، گورنر کے پی اور ممبر ایڈوائزری کونسل کا ردِعمل
- وزیراعظم کا اظہارِ افسوس: وزیراعظم شہباز شریف نے معصوم بچوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تمام زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
- گورنر فیصل کریم کنڈی کا مالی امداد کا اعلان: گورنر کے پی نے جاں بحق بچوں کے لواحقین کے لیے 10، 10 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے 2، 2 لاکھ روپے دینے کا اعلان کرتے ہوئے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ خستہ حال عمارت کو ماضی میں این او سی (NOC) کس نے دی؟
- ثمر ہارون بلور کا دورہ: ممبر ایڈوائزری کونسل برائے اطلاعات ثمر ہارون بلور نے دیر کالونی اور لیڈی ریڈنگ اسپتال کا دورہ کیا اور اسے انتظامیہ کی کھلی غفلت قرار دیتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان کے تحت تعلیمی اداروں اور مدارس کے باقاعدہ انسپکشن پر زور دیا۔
رقت آمیز مناظر: ایک ہی خاندان کے 5 بچے اور ایک شہری کے 2 بیٹے جاں بحق

اس سانحے میں انتہائی دردناک کہانیوں نے پورے ملک کو روادیا:
- دیر کالونی کے رہائشی منگل خان کے خاندان کے 5 معصوم بچے حادثے کا شکار ہو کر جان بحق ہو گئے۔
- مقامی شہری ذاکر اللہ کے دو بیٹے ابوبکر اور محمد، جو دوسری جماعت میں ایک ساتھ بیٹھتے تھے، کلاس کی چھت گرنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ ان کی بیٹی نے بھاگ کر گھر جا کر حادثے کی خبر دی تھی۔
- سانحے میں جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی ہے جس میں ہزاروں سوگوار شہریوں نے شرکت کی۔
ضلع پشاور میں ہیلتھ ایمرجنسی اور فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی
محکمہ صحت خیبرپختونخوا کی جانب سے ضلع پشاور میں فوری طور پر ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور خیبر ٹیچنگ اسپتال (KTH) و لیڈی ریڈنگ اسپتال (LRH) کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
دریں اثنا، محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایم ڈی کے پی پی ایس آر اے جاوید اقبال کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کر دی ہے، جو عمارت کی تعمیر میں ساختی نقائص، غفلت کے ذمہ داروں کا تعین اور مستقبل کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔
G24 News Online سانحہ پشاور کی انکوائری رپورٹ، قانونی کارروائیوں اور تمام بریکنگ اپ ڈیٹس اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




