اسلام آباد/قومی ڈیسک: اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کے دوران اپنی جان پر کھیل کر ایک معصوم نومولود بچے کی جان بچانے والی فرض شناس نرس رضیہ نورین کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے باوقار سول اعزاز ’ستارہ خدمت‘ اور ایک کروڑ روپے کے نقد انعام کی منظوری دے دی ہے۔
📌 نرس رضیہ نورین کی شجاعت اور وزیراعظم کا خراجِ تحسین
- بہادری کا کارنامہ: تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پر منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران وزیراعظم نے نرس رضیہ نورین کی بے مثال جرات کو بھرپور انداز میں سراہا، جنہوں نے آگ کے شعلوں کے پھیلنے سے چند لمحوں قبل اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر وارڈ میں داخل ہو کر ایک معصوم بچے کو بحفاظت باہر نکال کر اس کی زندگی بچائی۔
- قوم کا فخر: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ نرس رضیہ نورین نے کمال ذمہ داری اور پامردی کا ثبوت دیا ہے۔ اپنی جان کو شدید خطرے میں ڈال کر معصوم بچے کی جان بچانے پر مجھ سمیت پوری قوم کو نرس رضیہ نورین پر فخر ہے، اور ایسے فرض شناس لوگوں کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے۔
⚖️ غفلت کے مرتکب ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور معطلیاں
- معطل افسران: یاد رہے کہ وزیراعظم اس سے قبل سانحہ پمز میں مجرمانہ غفلت برتنے پر پمز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹیو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ و چوہدری ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی محمد عثمان اور سی ڈی اے کے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمان کو معطل کر کے سخت قانونی کارروائی کا حکم دے چکے ہیں۔
- نئی تعیناتیاں: سی ای او این آئی ایچ ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز کا ایکٹنگ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر تعینات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ ہٹائے جانے والے تمام عہدوں پر نئے افسران کی فوری اور ایک ساتھ تعیناتی کا حکم دیا گیا ہے۔
🔍 تحقیقاتی رپورٹ کے اہم انکشافات
- عالمی قواعد کی خلاف ورزی: تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پمز کے نیونیٹل وارڈ میں عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او (WHO) کے تمام تر قواعد و ضوابط کی صریح خلاف ورزی پائی گئی۔
- ایس او پیز کا فقدان: ابتدائی تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسپتال میں آتشزدگی یا کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے کوئی تفصیلی ایس او پیز یا باقاعدہ ٹریننگ موجود نہیں تھی۔ پمز کے کل 13 ایس او پیز میں سے صرف دو ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی حالات کا ذکر ملتا ہے، اور حادثے کے وقت کوئی بھی سپروائزری اسٹاف ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا۔




