اسلام آباد/ قومی ڈیسک: وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پمز کی نرسری میں پیش آنے والے دلخراش آتشزدگی کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے نومولود بچوں کے لواحقین کے لیے وفاقی حکومت نے فی کس 50 لاکھ روپے مالی معاوضے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
📌 مالی معاونت اور حکومتی اعلامیہ
- اعلانِ معاوضہ: حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پمز اسپتال میں المناک حادثے کا شکار ہونے والے ہر نومولود کے خاندان کو فی کس 50 لاکھ روپے مالی امداد دی جائے گی۔
- غم میں شراکت: حکومت کا کہنا ہے کہ وہ متاثرہ خاندانوں کے اس عظیم دکھ اور صدمے میں برابر کی شریک ہے، اور اگرچہ کوئی بھی مالی معاونت قیمتی انسانی جانوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی، تاہم یہ اقدام غمزدہ خاندانوں کی مالی مشکلات میں کچھ مداوا کرنے کی ایک کوشش ہے۔
- مسلسل تعاون: وفاقی حکومت کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو اس مشکل ترین گھڑی میں ہر ممکنہ تعاون اور معاونت فراہم کی جائے گی۔
🏥 پمز اسپتال کا دلخراش سانحہ اور انتظامی غفلت کے الزامات
- 14 معصوم بچوں کی شہادت: یاد رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کے معروف سرکاری اسپتال پمز کے نرسری وارڈ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے میں 14 معصوم نومولود بچے دم توڑ گئے تھے۔
- لواحقین کا شدید ردعمل: اس المناک واقعے کے بعد جاں بحق بچوں کے لواحقین، عزیز و اقارب اور عینی شاہدین کی جانب سے اسپتال کی انتظامیہ اور متعلقہ حکام پر شدید غفلت، لاپرواہی اور غیر ذمہ داری کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔
🔍 وزیراعظم کی ہدایت پر تحقیقاتی کمیٹیوں کی تشکیل
- دو طرفہ انکوائری: وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جبکہ دوسری جانب پمز اسپتال کی انتظامیہ نے بھی اس سانحے کی جانچ کے لیے الگ کمیٹی تشکیل دی ہے۔
- 48 گھنٹوں میں رپورٹ طلب: دونوں تحقیقاتی کمیٹیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر اپنی تفصیلی انکوائری رپورٹ پیش کریں، جس میں واقعے کی اصل وجوہات اور اس کے ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے گا۔




