تحریر و تحقیق ۔۔ صالحہ کامران
تعلیمی سال کا آغاز قریب ہو یا نیا تعلیمی سیشن شروع ہونے کو ہو، اساتذہ، والدین اور خاص طور پر پبلشرز کی نظریں نصاب کی تبدیلیوں اور نئی کتب پر ٹکی ہوتی ہیں۔ لیکن اس بار تعلیمی حلقوں میں ایک عجیب و غریب صورتحال اور تشویش کی لہر دیکھنے میں آ رہی ہے۔ پانچویں جماعت تک کے نئے نصاب کو اس حد تک “خفیہ” رکھا گیا ہے کہ کتابیں چھاپنے والے پبلشرز بھی بالکل بے خبر ہیں۔
یہ صورتحال نہ صرف پبلشرز کے لیے معاشی مسائل پیدا کر رہی ہے بلکہ بچوں کی تعلیم اور والدین کی پریشانی میں بھی اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
مسئلہ کیا ہے؟
عام طور پر جب بھی کسی نصاب میں تبدیلی کی جاتی ہے یا کوئی نیا تدریسی فریم ورک متعارف کرایا جاتا ہے، تو متعلقہ تعلیمی بورڈز اور محکمہ تعلیم کی جانب سے پبلشرز کو پیشگی آگاہ کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ:
- پبلشرز کو نئی نصابی کتب کی تیاری اور پرنٹنگ کے لیے مناسب وقت ملے۔
- مارکیٹ میں بروقت کتابوں کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
- اساتذہ کو نئے نصاب کے مطابق تدریسی منصوبہ بندی (Lesson Planning) کا موقع ملے۔
لیکن موجودہ صورتحال میں پانچویں جماعت تک کے نئے نصاب کی جزئیات کو پوشیدہ رکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے نا صرف مقامی پبلشرز پریشان ہیں بلکہ مارکیٹ میں کتابوں کی شدید قلت کا خدشہ بھی پیدا ہو چکا ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے جماعت پنجم تک نصاب میں تبدیلی اور نئے تعلیمی ماڈل پر کام کیا جا رہا ہے۔ تاہم نئے نصاب کے خدوخال، کتابوں کے مواد اور اس کی تیاری کے طریقہ کار سے متعلق حتمی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔
پبلشرز اور اساتذہ کی تشویش
پبلشرز کا کہنا ہے کہ کتاب کی تدوین، پروف ریڈنگ، ڈیزائننگ اور پرنٹنگ میں مہینوں کا وقت درکار ہوتا ہے۔ اگر آخری لمحے میں نصاب سامنے لایا گیا، تو معیاری کتابیں وقت پر فراہم کرنا ناممکن ہو جائے گا۔
دوسری جانب اساتذہ بھی اس ابہام سے سخت پریشان ہیں۔ اگر انہیں یہ معلوم ہی نہیں ہوگا کہ بچوں کو کیا پڑھانا ہے، تو وہ نئے سیشن کی تیاری کیسے کریں گے؟
اس صورتحال کے ممکنہ اثرات
- کتابوں کی تاخیر: نیا تعلیمی سیشن شروع ہونے کے باوجود بچوں کے پاس کتابیں نہیں ہوں گی، جس سے ان کا قیمتی وقت ضائع ہوگا۔
- غیر معیاری مواد: جلدی میں کتابیں چھاپنے کے چکر میں غلطیوں اور غیر معیاری مواد کا خدشہ بڑھ جائے گا۔
- والدین پر ذہنی اور مالی بوجھ: آخری وقت پر کتابوں کی بلیک مارکیٹنگ یا شارٹیج کی وجہ سے والدین کو مہنگے داموں کتابیں خریدنی پڑ سکتی ہیں۔
حل کیا ہونا چاہیے؟
تعلیمی پالیسیوں میں شفافیت اور بروقت اقدامات ہی کسی بھی تعلیمی نظام کو کامياب بناتے ہیں۔
- نصاب کی فوری فراہمی: محکمہ تعلیم اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ بلا تاخیر نیا نصاب عام کریں اور اسے اپنی سرکاری ویب سائٹس پر اپ لوڈ کریں۔
- پبلشرز کے ساتھ مشاورت: تمام اسٹیک ہولڈرز اور پبلشرز کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ کتابوں کی تیاری کا عمل تیز ہو سکے۔
- عبوری وقت (Gestation Period): نئے نصاب کے مکمل نفاذ سے پہلے اساتذہ اور پبلشرز کو کم از کم چند مہینوں کا وقت دیا جائے تاکہ تعلیمی عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔
نئے نصاب کا مقصد ابتدائی جماعتوں کے طلبہ کے لیے تعلیمی معیار کو بہتر بنانا اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام متعارف کرانا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم والدین، اساتذہ اور پبلشرز کی جانب سے حتمی نصاب اور اس کے نفاذ کے طریقہ کار کے بارے میں مزید وضاحت کا انتظار ہے۔
اگر پانچویں جماعت تک نیا نصاب نافذ کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات طلبہ، اساتذہ، والدین اور تعلیمی اداروں سمیت نصابی کتابوں کی اشاعت سے وابستہ شعبے پر بھی مرتب ہوں گے۔ حتمی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی نئے نظام کے دائرہ کار اور نفاذ کے بارے میں واضح تصویر سامنے آسکے گی۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا نصاب کو خفیہ رکھنا کسی نئی تعلیمی حکمت عملی کا حصہ ہے یا یہ محض انتظامی بے توجہی؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹس میں ضرور کریں۔




