اسلام آباد/قومی ڈیسک: بانی پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقاتیں نہ کروانے اور ان کے بچوں سے ٹیلیفونک گفتگو کا سلسلہ بند رکھنے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک اور توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتی احکامات کی جان بوجھ کر عدولی کی جا رہی ہے۔
📌 درخواست کے اہم نکات اور الزامات
- عدالتی حکم کی عدولی: دائر کردہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 18 اگست کے عدالتی حکم پر من و عن عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔
- ملاقات اور فون کالز سے محرومی: بانی پی ٹی آئی کو ان کے بیٹوں کے ساتھ فون کالز کی سہولت دینے سے انکار کیا جا رہا ہے، جبکہ ڈاکٹر عظمیٰ خان، علیمہ خان اور قاسم زمان کو بھی ملاقاتوں سے روکا جا رہا ہے۔
- اضافی دستاویزات: توہینِ عدالت کی اس دوسری درخواست کے ساتھ اضافی دستاویزات بھی جمع کرائی گئی ہیں، جن کے لیے دو الگ متفرق درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں۔
🏛️ فریقین اور یوسف رضا گیلانی کیس کا حوالہ
- نامزد فریقین: اس دوسری توہینِ عدالت کی درخواست میں بھی وزیراعظم شہباز شریف کو بطورِ فریق نامزد کیا گیا ہے، جبکہ چیف کمشنر، سیکرٹری داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔
- وزیراعظم آفس کی ذمہ داری: درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ جواب دہندہ فریق نمبر پانچ (چیف ایگزیکٹو) ہیں، اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق عدالتی حکم پر عمل نہ کروانے کی حتمی ذمہ داری وزیراعظم آفس پر عائد ہوتی ہے۔
- قانونی حوالہ: درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی توہین عدالت کیس کے قانونی اصولوں کا اطلاق اس کیس پر بھی کیا جائے۔
📋 عدالت سے اہم استدعا
درخواست گزار کی جانب سے عدالت سے درج ذیل اہم استدعا کی گئی ہے:
- سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم پر فوری اور سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔
- بانی پی ٹی آئی کی علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور قاسم زمان سے ملاقاتیں یقینی بنائی جائیں۔
- بانی پی ٹی آئی کی ان کی بیٹیوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کا بندوبست فوری طور پر کیا جائے۔




