تحریر و تحقیق۔۔ صالحہ کامران
پاکستان میں انفراسٹرکچر کی ترقی اور مواصلاتی نظام کی بہتری کے لیے موٹرویز کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سکھر–حیدرآباد موٹروے (M-6) ایک ایسا شاہکار منصوبہ ہے جو نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کے ترقیاتی منظر نامے کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ موٹروے پشاور سے کراچی تک پھیلی ہوئی ‘M-9/M-6/M-5’ موٹروے زنجیر کی آخری اور انتہائی اہم کڑی ہے، جس کی تکمیل سے ملک کا شمالی اور جنوبی حصہ ایک تیز رفتار اور جدید شاہراہ کے ذریعے مکمل طور پر منسلک ہو جائے گا۔
یہ منصوبہ صوبے کے اہم شہروں کو بہتر اور تیز رفتار سفری رابطے سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ ملکی تجارت اور معاشی سرگرمیوں کے لیے بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
منصوبے کی اہم خصوصیات
- کل لمبائی: تقریباً 306 کلومیٹر۔
- لینز (Lanes): 6 لین پر مشتمل جدید کنٹرولڈ ایکسیس موٹروے (Controlled-Access Motorway)۔
- اہم شہروں کا رابطہ: یہ شاہراہ سکھر اور حیدرآباد کو آپس میں جوڑنے کے علاوہ مٹیاری، نواب شاہ (شہید بینظیر آباد)، نوشہرو فیروز، اور خیرپور جیسے اہم اضلاع اور تجارتی مرکزوں سے گزرتی ہے۔
- پل اور انٹرچینجز: اس روٹ پر متعدد فلائی اورز، بڑے پل اور جدید انٹرچینجز شامل کیے گئے ہیں تاکہ مقامی ٹریفک کی نقل و حرکت میں بھی آسانیاں پیدا ہوں۔
سفر کی سہولیات اور عوامی فوائد
- وقت اور ایندھن کی بچت: فی الوقت سکھر سے حیدرآباد کے لیے قومی شاہراہ (N-5) پر سفر کرنے میں 6 سے 7 گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔ موٹروے M-6 کی مکمل فعال سے یہ سفر گھٹ کر صرف 2.5 سے 3 گھنٹے کا رہ جائے گا، جس سے ایندھن کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
- محفوظ اور آرام دہ سفر: سنگل روڈز اور رش والے علاقوں سے نجات ملنے کی وجہ سے حادثات کے خدشات میں واضح کمی آئے گی۔ جدید ٹریفک مینجمنٹ، مانیٹرنگ سسٹم اور ریسکیو خدمات مسافروں کے لیے سفر کو محفوظ اور آرام دہ بنائیں گی۔
- تجارتی سرگرمیوں کو فروغ: سکھر–حیدرآباد موٹروے سندھ کے مختلف علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والے شاہراہوں کے نظام کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔ بہتر سڑکوں کی وجہ سے زرعی اجناس، صنعتی مصنوعات اور دیگر سامان کی نقل و حمل میں آسانی پیدا ہونے سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔کراچی کی بندرگاہوں سے گڈز ٹرانسپورٹ کی پنجاب، خیبر پختونخوا اور شمال کے دیگر علاقوں تک رسائی انتہائی آسان ہو جائے گی۔ زرعی اجناس اور صنعتی سامان کی بروقت منتقلی سے تجارتی لاگت کم ہوگی۔
سندھ کی معاشی ترقی میں کردار
سکھر–حیدرآباد موٹروے صرف ایک سڑک نہیں بلکہ سندھ کی معاشی بالیدگی کی ضامن ہے۔ اس کی تعمیر سے:
- مقامی روزگار کے مواقع: منصوبے کی تعمیر کے دوران اور اس کے بعد سروس ایریاز، پٹرول پمپ، اور دیگر سہولیات کے قائم ہونے سے ہزاروں مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔
- زراعت اور مقامی صنعتوں کی بہتری: سندھ کے زرعی علاقوں (جیسے خیرپور کی کھجوریں اور مٹیاری کی زرعی مصنوعات) کو بڑی منڈیوں تک تیز رفتار رسائی ملے گی، جس سے کسانوں کو ان کی فصلوں کا بہتر معاوضہ مل سکے گا۔
حاصلِ کلام
سکھر–حیدرآباد موٹروے سندھ میں سفری سہولیات اور انفراسٹرکچر کی جدید کاری میں ایک بہت بڑا سنگِ میل ثابت ہوگی۔ یہ منصوبہ ملک کی اقتصادی شاہراہوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی بروقت تکمیل اور فعال ہونا نہ صرف مسافروں کو آرام دہ سفر فراہم کرے گا بلکہ سندھ سمیت پورے پاکستان کو معاشی خوشحالی کی نئی راہوں پر گامزن کرے گا۔




