اسٹاک ہوم/ بین الاقوامی ڈیسک: سویڈن کے شہر فاگرستا (Fagersta) میں واقع ایک ہائی اسکول میں تلوار بردار شخص کے اندھا دھند حملے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد کئی طلبا کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ مقامی میڈیا کی جانب سے ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
📌 واقعے کی تفصیلات
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ واقعہ فاگرستا کے برینل اسکول (Brinell School) میں دوپہر کے وقت پیش آیا۔
- حملہ آور کا داخلہ: ایک شخص ہاتھ میں تلوار لیے اسکول میں داخل ہوا اور طلبا، اساتذہ اور وہاں موجود دیگر افراد پر اندھا دھند حملے شروع کر دیے۔
- اسکول کی صورتحال: حملے کے وقت اسکول میں 450 کے قریب بچے موجود تھے جن کی عمریں 16 سے 20 سال کے درمیان ہیں۔ اسکول میں شدید افراتفری اور بھگدڑ مچ گئی۔
👮 پولیس کی کارروائی اور گرفتاری
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔
- حملہ آور کی گرفتاری: پولیس نے علاقے کا محاصرہ کیا اور اسکول سے لوگوں کو بحفاظت نکالا۔ پولیس نے حملہ آور کو ہتھیار پھینکنے کا حکم دیا، تاہم مزاحمت کرنے پر پولیس نے فائرنگ کر کے حملہ آور کی ٹانگ پر گولی مار دی اور اسے زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔
- اسپتال منتقلی: حملہ آور کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
⚠️ جانی نقصان کا خدشہ اور لاک ڈاؤن
مقامی میڈیا اور عینی شاہدین کے مطابق متعدد ایمبولینسیں اسپتال کی جانب روانہ ہوئی ہیں اور کچھ طلبا کی حالت تشویشناک ہے۔
- زخمیوں کی تعداد: حکومت کی جانب سے فی الحال سرکاری تعداد جاری نہیں کی گئی تاہم مقامی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ایک درجن سے زائد طلبا کو اسپتال لایا گیا ہے اور ہلاکتوں کا شدید خدشہ ہے۔
- احتیاطی اقدامات: پولیس نے احتیاطی اقدام کے طور پر فاگرستا کے دیگر آٹھ اسکولوں میں بھی لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے اسکول کی عمارت کی مکمل تلاشی لی ہے اور علاقے کو کلیئر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب عوام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
📜 ماضی کا ایک تلخ واقعہ
اس حملے نے سویڈن کو 10 سال پرانی یادیں تازہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ 2015 میں بھی سویڈن کے شہر ٹرول ہیٹن کے کرونان اسکول میں ایک حملہ آور نے تلوار سے حملہ کرکے ایک استاد اور ایک طالب علم کو قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے محرکات نسلی نفرت پر مبنی بتائے گئے تھے۔




