Skip to main content

G24 News Online

انٹرنیشنل

🇺🇸 ترکیہ میں صدر ٹرمپ پر ایرانی حملے کی اطلاعات پر امریکی انٹیلی جنس کے شدید شکوک: واشنگٹن پوسٹ کی تہلکہ خیز رپورٹ

🇺🇸 ترکیہ میں صدر ٹرمپ پر ایرانی حملے کی اطلاعات پر امریکی انٹیلی جنس کے شدید شکوک: واشنگٹن پوسٹ کی تہلکہ خیز رپورٹ
Spread the love

واشنگٹن/ بین الاقوامی ڈیسک: مؤقر امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کی ایک نئی تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دورۂ ترکیہ کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایرانی حملے کے مبینہ خطرے سے متعلق انٹیلی جنس رپورٹس پر امریکی حکام کے اندر ہی شدید شکوک و شبہات پائے جاتے تھے۔ ان خدشات کے پیش نظر صدر ٹرمپ کو انتہائی خفیہ انداز میں ایک متبادل فوجی طیارے کے ذریعے ترکیہ سے باہر نکالا گیا۔

📌 اسرائیلی انٹیلی جنس کا دعویٰ اور سی آئی اے کی ناپختگی رائے

  • ذرائع کا انکشاف: رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ کے خلاف مبینہ قاتلانہ حملے کی یہ خفیہ اطلاع اسرائیلی حکومت نے مرکزی امریکی خفیہ ادارے (CIA) کو فراہم کی تھی۔
  • کمزور شواہد: سی آئی اے کے تجزیہ کاروں نے اس خطرے کی معلومات کو قائل کرنے والا یا مضبوط نہیں مانا، بلکہ ایک امریکی عہدیدار نے اسے “اسرائیل سے حاصل کردہ، امریکہ کی تیار کردہ نہیں” قرار دیتے ہوئے انتہائی کمزور اور کم اعتماد اطلاعات قرار دیا۔


🚚 خفیہ انخلا: کیٹرنگ ٹرک سے تیسرے طیارے تک کا سفر

  • دھوکا دینے کی حکمت عملی: واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس نے بظاہر یہ تاثر قائم رکھا کہ صدر ٹرمپ اپنے روایتی طیارے ’ایئر فورس ون‘ کے ذریعے سفر کر رہے ہیں۔
  • خفیہ منتقلی: حقیقت میں صدر ٹرمپ نے خفیہ طور پر اس طیارے سے اتر کر ایئرپورٹ کے ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے تیسرے طیارے تک رسائی حاصل کی۔ یہ امریکی فضائیہ کا C-32A طیارہ تھا، جس کے ذریعے ٹرمپ اور ان کے چند اہم معاونین کو برطانیہ منتقل کیا گیا۔
  • قطری تحفے والا طیارہ استعمال نہ کرنے کا فیصلہ: ممکنہ خطرات کے تناظر میں انقرہ سے واپسی کے سفر کے پہلے مرحلے کے لیے قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے نئے طیارے کا استعمال مؤخر کر دیا گیا۔ ملڈن ہال ایئربیس پر مختصر قیام کے بعد ٹرمپ نئے ایئر فورس ون پر سوار ہو کر واشنگٹن واپس پہنچے۔

🗣️ صدر ٹرمپ کا اپنا ردعمل

طیارے میں سفر کے دوران صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے جب ایک رپورٹر نے پوچھا کہ کیا ایران کی جانب سے کوئی قابلِ اعتماد خطرہ موجود تھا، تو صدر ٹرمپ نے طنزیہ اور بے باک انداز میں جواب دیا:

“مجھے ہر وقت خطرہ رہتا ہے۔ میں ان کی فہرست میں آپ سے پہلے نمبر پر ہوں۔ لیکن اگر میں گیا تو آپ بھی جائیں گے۔”

دوسری جانب، ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مؤقف اپنایا کہ صدر کو ہمیشہ مختلف خطرات کا سامنا رہا ہے اور امریکی سیکرٹ سروس نے اپنے بنیادی مشن کے تحت صدر کی حفاظت کو کامیابی سے یقینی بنایا ہے۔

#G24News #DonaldTrump #USIntelligence #WashingtonPost #TurkeyVisit #IranThreat #BreakingNews #UrduNews #G24NewsOnline

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *