Skip to main content

G24 News Online

بلاگ

🚢 حضرت نوح علیہ السلام کی تاریخی کشتی کی دریافت کا دعویٰ؛ ترک نژاد امریکی سائنسدان نے ریڈار کے ذریعے زیرزمین ڈھانچہ تلاش کر لیا

🚢 حضرت نوح علیہ السلام کی تاریخی کشتی کی دریافت کا دعویٰ؛ ترک نژاد امریکی سائنسدان نے ریڈار کے ذریعے زیرزمین ڈھانچہ تلاش کر لیا
Spread the love

بین الاقوامی ڈیسک/ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی: انسانی تاریخ میں حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے کیونکہ اسی نے عظیم طوفان کے دوران انسان سمیت زندگی کی کئی انواع و اقسام کو بچا کر زمین پر محفوظ رکھا۔ اب اس تاریخی کشتی کے حوالے سے ایک سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے جہاں ایک ترک نژاد سائنسدان نے جدید ریڈار کی مدد سے اس کے مقام کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔

📌 تندروک پہاڑ اور دروپینار کا مقام

روایتی طور پر یہ مشہور ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی مشرقی ترکی میں واقع ’تندروک‘ پہاڑ کے ’دروپینار‘ نامی مقام پر ٹھہری تھی، جس کی ساخت ہو بہو ایک بہت بڑی کشتی سے ملتی ہے۔ ارضیاتی ماہرین کے مطابق یہ ڈھانچہ 515 فٹ لمبا ہے۔

🔍 ’بختیار ریڈار‘ کا حیرت انگیز کارنامہ

حالیہ پیش رفت کے مطابق ممتاز ترک نژاد امریکی عسکری سائنسدان ڈاکٹر خسرو بختیار نے اپنے ایجاد کردہ ’بختیار ریڈار‘ سے اس مقام کے نیچے کی زمین کا تفصیلی معائنہ کیا ہے:

  • برق مقناطیسی شعاعیں: یہ ریڈار خصوصی برق مقناطیسی شعاعیں خارج کر کے زیرزمین موجود تمام اشیاء کا پتا لگاتا ہے۔
  • کشتی نما ڈھانچے کی تصدیق: ریڈار کے اسکیننگ کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ اس مقام کے نیچے واقعی ایک کشتی نما ڈھانچہ موجود ہے۔ اس دریافت نے دنیا بھر کے مذہبی اور سائنسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
  • کھدائی کے منصوبے: ڈاکٹر خسرو اب اپنی ٹیم کے ہمراہ اس مقام پر باقاعدہ کھدائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ زمینی حقیقت کو دنیا کے سامنے آشکار کیا جا سکے۔

📜 مقامِ الجودی کی مطابقت

قرآن پاک میں کشتی کے رکنے کا مقام ’الجودی‘ بیان کیا گیا ہے، اگرچہ روایتی طور پر اس کے محل وقوع کے بارے میں حتمی قطیت موجود نہیں ہے، تاہم اس ضمن میں ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ مقامی ترک افراد کوہ تندروک کی ایک مخصوص چوٹی کو آج بھی الجودی کے نام سے پکارتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *