Skip to main content

G24 News Online

انٹرنیشنل

🚨 امدادی کارکنوں کی شہادت؛ اسرائیل کا تحقیقات ختم کرنے کا فیصلہ ‘شرمناک’، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کا شدید ردعمل

🚨 امدادی کارکنوں کی شہادت؛ اسرائیل کا تحقیقات ختم کرنے کا فیصلہ ‘شرمناک’، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کا شدید ردعمل
Spread the love

لندن/ عالمی ڈیسک: غزہ میں ورلڈ سینٹرل کچن (WCK) کے 7 امدادی کارکنوں کی ہلاکت پر اسرائیل کی جانب سے فوجداری تحقیقات آگے نہ بڑھانے کے فیصلے نے عالمی سطح پر شدید برہمی پیدا کر دی ہے۔ برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے ایک مشترکہ بیان میں اسرائیل کے اس اقدام کو “شرمناک” اور “انتہائی مایوس کن” قرار دیا ہے۔

📌 برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کا مشترکہ مطالبہ

تینوں ممالک نے اپنے بیان میں اسرائیل پر کڑی تنقید کرتے ہوئے درج ذیل نکات اٹھائے ہیں:

  • شفاف تحقیقات کا مطالبہ: تینوں ممالک دو سال سے زائد عرصے سے اسرائیل پر اس واقعے کی فوری، غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
  • احتساب کا فقدان: بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل نے ذمہ داروں کا احتساب کرنے کے بجائے تحقیقات بند کرنے کا اعلان کر کے انسانی حقوق اور انصاف کے عالمی تقاضوں کو نظر انداز کیا ہے۔
  • عالمی یومِ انسانیت پر اعلان: عالمی یومِ انسانیت کے موقع پر اسرائیل کا یہ اعلان مزید افسوسناک اور ناقابلِ فہم عمل ہے۔

📜 پسِ منظر: یکم اپریل 2024 کا واقعہ

یہ واقعہ یکم اپریل 2024 کو پیش آیا تھا جب اسرائیلی فوج کے ڈرون حملے میں امدادی تنظیم ‘ورلڈ سینٹرل کچن’ کی گاڑیوں کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں 3 برطانوی، ایک امریکی نژاد کینیڈین، ایک پولش، ایک آسٹریلوی اور ایک فلسطینی کارکن شہید ہو گئے تھے۔

🛡️ اسرائیلی فوج کا مؤقف

اسرائیلی فوج نے اپنی تحقیقات میں واقعے کو “افسوسناک غلطی” قرار دیا ہے:

  • وجہ: فوج کا دعویٰ ہے کہ انہیں شُبہ تھا کہ گاڑیوں میں حماس کا مسلح رکن موجود ہے، جو بعد میں غلط ثابت ہوا۔
  • سیکیورٹی ٹیم: فوج نے یہ بھی الزام لگایا کہ تنظیم نے قافلے کی حفاظت کے لیے مسلح سیکیورٹی ٹیم رکھی تھی جس کی اطلاع انہیں نہیں دی گئی تھی۔
  • فیصلہ: اسرائیلی کمانڈروں کے مطابق آپریشنل خامیاں ضرور رہیں، لیکن یہ “فوجداری کارروائی” کے زمرے میں نہیں آتیں، اس لیے تحقیقات بند کی جا رہی ہیں۔

🚫 ورلڈ سینٹرل کچن (WCK) کا سخت ردعمل

امریکی امدادی تنظیم نے اسرائیلی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے “توہین آمیز” قرار دیا ہے۔ تنظیم کا مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیشن قائم کیا جائے، کیونکہ ان کے نزدیک اسرائیلی فوج اپنے ہی اقدامات کی منصفانہ تحقیقات کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ آسٹریلیا نے بھی اس معاملے پر اپنا شدید احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے اسرائیلی سفیر کو طلب کر لیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *