تاریخ / مقام: پشاور / اسلام آباد
قومی و سیاسی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے نئے انتظامی و سیاسی ڈھانچے کے حوالے سے اہم مجوزہ خدوخال سامنے آگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاق اور صوبائی سطح پر ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت امورِ حکومت چلانے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
ایریا ڈویلپمنٹ کونسل اور 12 اضلاع کا احاطہ
ذرائع کے مطابق شورش زدہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کو تیزی سے پایہ تکمیل تک پہنچانے اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے 40 سے 50 ارکان پر مشتمل ’ایریا ڈویلپمنٹ کونسل‘ قائم کی جائے گی۔ اس کونسل کے دائرہ کار میں 8 قبائلی اضلاع کے علاوہ 4 دیگر اضلاع یعنی بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان بھی شامل ہوں گے۔
صوبائی اسمبلی اور عملے کے اختیارات معطل
مجوزہ انتظامات کے تحت خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کو باضابطہ طور پر معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ صوبائی اسمبلی کے سیکریٹریٹ اور عملے کے انتظامی اختیارات بھی معطل کیے جانے کا قوی امکان ہے۔ ایمرجنسی کے اس دورانیے میں گورنر کو تمام صوبائی اختیارات تفویض کیے جانے کی تجویز ہے۔
11 رکنی ایڈوائزری کابینہ اور ٹیکنوکریٹس کا تقرر
ذرائع کا بتانا ہے کہ صوبائی امور کو چلانے کے لیے 11 رکنی ایڈوائزری کابینہ تشکیل دی جائے گی جس میں زیادہ تر ماہرین کو شامل کیا جائے گا۔ کابینہ کے حوالے سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اس میں 10 ٹیکنوکریٹس شامل ہوں گے، جبکہ ثمر بلور ممکنہ طور پر واحد سیاسی شخصیت کی حیثیت سے اس ایڈوائزری کابینہ کا حصہ بنیں گی۔
نئے سیٹ اپ کے تحت صوبے میں امن و امان کی مکمل اور فوری بحالی کو اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے تاکہ متاثرہ اضلاع میں ریاستی رٹ کو مضبوط بنایا جا سکے۔
G24 News Online خیبر پختونخوا کے سیاسی بحران، انتظامی فیصلوں اور تمام بریکنگ اپ ڈیٹس سے اپنے قارئین کو بروقت آگاہ رکھتا رہے گا۔




