تاریخ / مقام: اسلام آباد
قومی و سیاسی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کو حرف بہ حرف مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ جے یو آئی (ف) اس غیر آئینی اقدام کے خلاف پارلیمان، عدالت اور عوام کے پاس جائے گی۔
یہ بات انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر جے یو آئی کی مرکزی کور کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کی صدارت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال اور وفاق کے حالیہ اقدامات پر تفصیلی غوروخوض کیا گیا اور آئندہ کا لائحۂ عمل طے کیا گیا۔
مذاکرات کا پس منظر اور پردے کے پیچھے کے حقائق
مولانا فضل الرحمان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ معاملات یہاں تک کیسے پہنچے۔ انہوں نے بتایا:
- 7 اکتوبر کو اسلام آباد آمد پر پی ٹی آئی کے رہنما ان کے پاس آئے تھے۔ جے یو آئی کی درخواست پر ہی پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی پیش قدمی کو موخر کیا ہوا تھا۔
- چار ماہ بعد وزیراعظم کی جانب سے انہیں کھانے پر دعوت دی گئی، جہاں انہوں نے ملک کی خاطر شرکت کی۔ وزیراعظم کا مطالبہ تھا کہ پہلے لانگ مارچ کو منسوخ کیا جائے، جبکہ پی ٹی آئی کا مطالبات پورا ہونے پر مارچ منسوخ کرنے کا موقف تھا۔
- پی ٹی آئی رہنما سہیل آفریدی نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر حکومت ان کے مطالبات (بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور اسپتال منتقلی) مان لے تو وہ لانگ مارچ ختم کر دیں گے۔
اسحاق ڈار سے رابطہ اور حکومت کا دوہرا معیار
سربراہ جے یو آئی نے بتایا کہ وہ اس معاملے کو سلجھانے کے لیے مسلسل رابطے میں تھے اور صبح نماز کے وقت بھی ان کا وزیراعظم سے رابطہ ہوا۔ تاہم، رات کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار نے انہیں فون کر کے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی جا رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے مطابق انہوں نے اسحاق ڈار سے پوچھا کہ “ایمرجنسی کیوں لگا رہے ہیں؟” جس پر جواب ملا کہ صوبے میں دہشت گردی بہت ہے۔ اس پر مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ “کیا بلوچستان میں دہشت گردی نہیں ہے؟ صرف فرق یہ ہے کہ بلوچستان کی حکومت وفاق کی ہاں میں ہاں ملاتی ہے اور یہاں اختلاف ہے۔”
جے یو آئی سربراہ نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنے جمہوری اور عوامی حقوق کا پارلیمنٹ، عدالت اور عوامی میدان میں ہر سطح پر دفاع کریں گے۔
G24 News Online تمام قومی و سیاسی پیش رفت اور بریکنگ خبریں غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




