اسلام آباد/ سیاسی ڈیسک: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے واضح کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی ڈیل نہیں کی۔ سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کرنے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالت کے حکم کی واضح خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ آیا عدالت اپنے احکامات پر عملدرآمد کرواتੀ ہے یا نہیں۔
📌 سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست اور رجسٹرار سے ملاقات
میڈیا سے گفتگو کے دوران بیرسٹر گوہر نے عدالتی کارروائی کے حوالے سے درج ذیل اہم نکات بیان کیے:
- حکم کی خلاف ورزی: سپریم کورٹ کے حکم کی واضح خلاف ورزی کی گئی ہے، جس پر توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔
- رجسترار سے ملاقات: چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات کی کوشش کی گئی تھی جو مصروفیات کے باعث ممکن نہ ہو سکی، تاہم رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات کر کے استدعا کی گئی ہے کہ کیس کو فوری طور پر سماعت کے لیے لگایا جائے۔
- فائل پیش کرنے کی یقین دہانی: رجسٹرار نے آج ہی کیس کی فائل چیف جسٹس کے سامنے رکھنے کا کہا ہے۔
- قانونی جدوجہد: انہوں نے بتایا کہ انصاف کے حصول کے لیے وہ اب تک 15 مرتبہ سپریم کورٹ اور 25 مرتبہ ہائی کورٹ جا چکے ہیں، اور 18 اگست کے حکم پر مکمل عملدرآمد چاہتے ہیں۔
⚖️ بانی پی ٹی آئی کی صحت اور اسپتال منتقلی پر مؤقف
- ڈیل کی سختی سے تردید: بیرسٹر گوہر نے واضح الفاظ میں کہا کہ “بانی نے کوئی ڈیل نہیں کی”۔
- تاریخی حوالہ: انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا پہلے سیاسی شخصیات علاج کے لیے ضیا الدین اسپتال نہیں گئیں؟ کیا سپریم کورٹ کسی کو اسپتال بھیجنے کا حکم دینے کا اختیار نہیں رکھتی؟
- وزیر داخلہ سے ملاقات: محسن نقوی سے ملاقات سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ان کی گاہے بگاہے ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں، تاہم وہ ان ملاقاتوں کی تفصیلات نہیں بتا سکتے۔
🔍 26 نومبر کے واقعے پر گفتگو
چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ 26 نومبر کے کیس میں ان کے پارٹی کارکنان شہید اور زخمی ہوئے تھے، اور وہ چاہتے تھے کہ عدالت اس معاملے کا نوٹس لیتی کیونکہ اس کیس میں پی ٹی آئی سے زیادہ کسی اور کو دلچسپی نہیں ہو سکتی تھی۔




