ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

صحت

🪲 خون چوسنے والے کھٹمل خطرناک انفیکشن کا سبب؛ کیا بستر کے یہ کیڑے انسانوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں؟

🪲 خون چوسنے والے کھٹمل خطرناک انفیکشن کا سبب؛ کیا بستر کے یہ کیڑے انسانوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں؟
Spread the love

صحت اور سائنس ڈیسک: دن کی روشنی سے دور فرنیچر کی دراڑوں اور بستروں کی تہہ میں چھپے کیڑے، جنہیں کیڑوں کی دنیا کا ’ویمپائر‘ بھی کہا جاتا ہے، ایک بار پھر دنیا بھر میں بڑی پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ کیڑے محض خارش اور بے خوابی کا سبب ہی نہیں، بلکہ ایک خطرناک اینٹی بائیوٹک مزاحم انفیکشن پھیلانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

📌 طبی تحقیق اور ’ایم آر ایس اے‘ (MRSA) کا خطرہ

  • پبلک ٹرانسپورٹ اور سنیما گھروں میں پھیلاؤ: حالیہ برسوں میں پیرس اور نیویارک جیسے بڑے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ اور سنیما گھروں میں کھٹملوں کی موجودگی نے شدید سنسنی پھیلائی تھی، جس نے سفری حفاظتی اقدامات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
  • خوفناک انکشاف: سنہ 2023 میں سامنے آنے والی ایک طبی تحقیق نے ماہرینِ صحت کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یونیورسٹی آف ساؤتھ ڈکوٹا کے محققین کی جانب سے کی گئی تجرباتی تحقیق کے مطابق کھٹمل خون چوستے وقت ’ایم آر ایس اے‘ (MRSA) نامی ایک ایسے بیکٹیریا کو منتقل کر سکتے ہیں جو عام اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف شدید مزاحمت رکھتا ہے۔

🦠 کیڑے مار ادویات کے خلاف مزاحمت اور افزائش

  • مدافعتی نظام کی تیاری: دوسری جنگِ عظیم کے بعد ڈی ڈی ٹی (DDT) کے وسیع پیمانے پر استعمال سے کھٹملوں کی تعداد میں کمی آئی تھی، لیکن دہائیوں کے دوران ان کیڑوں نے عام کیڑے مار ادویات کے خلاف زبردست مدافعتی نظام (Resistance) تیار کر لیا ہے، جس کی وجہ سے دنیا کے متعدد ممالک میں ان کی آبادی میں دوبارہ خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
  • فصل اور ماحول: ماہرینِ حشرات کا کہنا ہے کہ گرمیوں کا موسم ان کی افزائش کے لیے انتہائی سازگار ہوتا ہے، اور یہ سفر کے دوران ہوٹل کے کمروں یا استعمال شدہ فرنیچر کے ذریعے آسانی سے ایک سے دوسرے گھر میں منتقل ہو جاتے ہیں۔

🛡️ کھٹملوں سے بچاؤ اور ان کے خاتمے کے مؤثر طریقے

  • سفری احتیاطی تدابیر: ماہرین کے مطابق اس سے بچنے کا بہترین طریقہ احتیاط ہے۔ سفر کے دوران ہوٹل کے کمرے کے بستر اور دوشالوں کا بغور معائنہ کریں اور اپنا سامان بستر سے دور رکھیں۔ گھر واپسی پر تمام کپڑوں کو تیز گرم پانی سے دھونا اور تیز دھوپ میں سکھانا مفید ثابت ہوتا ہے۔
  • پیشہ ورانہ علاج اور جدید طریقے: اگر گھر میں ان کیڑوں کی آمد ہو جائے تو عام کیمیکلز کا چھڑکاؤ کرنے کے بجائے پیشہ ور ماہرین کی خدمات حاصل کرنا زیادہ مؤثر رہتا ہے کیونکہ یہ کیڑے کیمیکلز کے خلاف مزاحمت پیدا کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ سلیکا ڈسٹ اور 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد کی گرم بھاپ کے ذریعے ان کے انڈوں اور بالغ کیڑوں کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *