ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

ڈی جی آئی ایس پی آر کا سی این این کو انٹرویو؛ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے استحکام کی ضمانت! 🌐📢

ڈی جی آئی ایس پی آر کا سی این این کو انٹرویو؛ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے استحکام کی ضمانت! 🌐📢
Spread the love

ڈی جی آئی ایس پی آر کا سی این این کو انٹرویو؛ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے استحکام کی ضمانت ہے، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری

تاریخ / مقام: راولپنڈی / واشنگتن

قومی و دفاعی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیئے گئے تفصیلی انٹرویو کے اہم اقتباسات سامنے آگئے ہیں۔ انٹرویو کے دوران انہوں نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے، پاک سعودیہ تعلقات اور امریکا ایران کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے مصالحانہ کردار پر کھل کر روشنی ڈالی۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: مقاصد اور دفاعی نوعیت

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستانی افواج مختلف صلاحیتوں اور شعبوں میں کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں، اور “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ” اچانک وجود میں آنے والا اتحاد نہیں ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اس معاہدے کا نفاذ اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے تمام اثرات خالصتاً دفاعی نوعیت کے ہوں گے۔

اس حوالے سے مزید بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کون سا دستہ وہاں جائے گا اور اسے کس انداز میں استعمال کیا جائے گا، اس کا فیصلہ آپریشنل کمانڈرز کریں گے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے معاہدے کو خطے کے استحکام کی ضمانت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں نئے سیکیورٹی چیلنجز نے جنم لیا ہے، اور یہ معاہدہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو ناکام بنانے کے لیے مشترکہ دفاعی قوت کا کام کرے گا۔ اصولاً ”کسی بھی ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا“، جسے مدنظر رکھتے ہوئے کوئی بھی عناصر اپنے مذموم مقاصد کو عملی جامہ پہنانے سے پہلے کئی بار سوچیں گے۔ اس کا مقصد کسی کو دشمن یا دوست قرار دینا نہیں بلکہ سعودی عرب کا دفاع کرنا ہے اور سعودی عرب کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔

امریکا ایران جنگ اور پاکستان کا بطورِ دیانت دار ثالث کردار

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کی کوششوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے پہلے بھی اہم کردار ادا کیا ہے، اب بھی کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے تاکہ فریقین کے درمیان اختلافات کم ہوں اور مذاکرات کے ذریعے پُرامن حل نکالا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے انتہائی دیانت دار ثالث کے طور پر غیر جانب داری سے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں حصہ ڈالا ہے۔ ہمارا بنیادی مفاد خطے میں امن اور استحکام کا فروغ ہے، اور ہم نے اپنے تمام شراکت داروں اور دوستوں کو واضح کر دیا ہے کہ جنگ کو مزید پھیلانے سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اس لیے اس تنازع کو مزید وسعت پانے سے روکنا ناگزیر ہے۔

G24 News Online ملکی دفاع، خارجہ پالیسی اور تمام اہم قومی امور پر مستند معلومات اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *