اسلام آباد/ سیاسی ڈیسک: بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو سخت قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور انہیں شدید ذہنی و جسمانی دباؤ کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے ملاقات کے دوران شکوہ کیا کہ ان کے ساتھ وہی ظالمانہ سلوک دہرایا جا رہا ہے جو سابق مصری صدر محمد مرسی کے ساتھ کیا گیا تھا۔
📌 اسپتال منتقلی اور رات گئے پیش آنے والے واقعات
ڈاکٹر عظمیٰ خان نے پریس کانفرنس کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے کہا:
- اڈیالہ جیل سے پمز منتقلی: انہیں رات ساڑھے آٹھ بجے اڈیالہ جیل بلوایا گیا، جہاں سے انہیں پولیس گاڑی کے ذریعے پمز (PIMS) اسپتال کی او پی ڈی میں لے جایا گیا۔
- طبی معائنہ: اسپتال میں بانی پی ٹی آئی کا بلڈ پریشر چیک کیا گیا جو کہ بالکل نارمل (120/80) تھا، جبکہ ان کی آنکھ کا معائنہ اور علاج بھی کیا گیا۔ ڈاکٹرز کے مطابق طویل قید اور ‘ہیومن کنٹیکٹ’ (انسانی رابطے) نہ ہونے کی وجہ سے ان کی طبیعت اور ہائپر ٹینشن کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔
🩺 “دس ماہ سے قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے”
ڈاکٹر عظمیٰ کے مطابق عمران خان نے ملاقات کے دوران اپنے اوپر ہونے والی سختیوں کا ذکر کیا:
- ٹارچر اور تنہائی: بانی پی ٹی آئی نے بار بار کہا کہ ان کے ساتھ شدید ظلم اور ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ انہیں نہ تو ٹی وی دیکھنے کی اجازت دی جاتی ہے اور نہ ہی پڑھنے کا کوئی مواد فراہم کیا جاتا ہے۔
- محمد مرسی سے تشبیہ: ڈاکٹر عظمیٰ نے بتایا کہ عمران خان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “مرسی کو ایسے ہی مارا گیا تھا جیسے مجھے قید تنہائی میں رکھ کر ٹارچر کیا جا رہا ہے۔” انہوں نے کارکنوں اور عوام کے نام پیغام میں کہا کہ سب کو جا کر بتائیں کہ ان کے ساتھ کس طرح کی زیادتیاں کی جا رہی ہیں۔




