اسلام آباد/ قانونی ڈیسک: بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت نے قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے نظرثانی کی نئی متفرق درخواست سپریم کورٹ میں دوبارہ دائر کر دی ہے۔ رجسٹرار آفس کی جانب سے لگائے گئے تکنیکی اعتراضات کو کامیابی سے دور کر لیا گیا ہے۔
📌 نئی درخواست کے اہم نکات اور مؤقف
ذرائع کے مطابق چیف کمشنر اسلام آباد کی طرف سے دائر کی جانے والی اس تازہ متفرق نظرثانی درخواست میں درج ذیل اہم قانونی نکات اٹھائے گئے ہیں:
- فیصلے میں قانونی سقم: حکومت کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی سے متعلق جاری ہونے والے عدالتی فیصلے میں قانونی سقم موجود ہیں۔
- جیل رولز کی نظراندازی: درخواست میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ فیصلے میں قیدیوں کی منتقلی سے متعلق طے شدہ جیل رولز کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
- فریق نہ بنانا: حکومت نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ مرکزی کیس کے دوران متعلقہ حکام کو فریق نہیں بنایا گیا تھا، جس سے قانونی تقاضے پورے نہیں ہوئے۔
🏛️ عدالت سے اہم استدعا
درخواست گزار کی جانب سے سپریم کورٹ سے باضابطہ استدعا کی گئی ہے کہ اس متفرق درخواست کو منظور کرتے ہوئے نظرثانی کی اجازت دی جائے اور 18 اگست کے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے اس کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔ قانونی حلقوں کی جانب سے اس پیش رفت کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔




