ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

سیاست

خیبرپختونخوا میں ضرورت پڑنے پر گورنر راج لگ سکتا ہے، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ؛ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا دھمکیوں سے نہ ڈرنے کا اعلان! 🇵🇰⚖️

خیبرپختونخوا میں ضرورت پڑنے پر گورنر راج لگ سکتا ہے، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ؛ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا دھمکیوں سے نہ ڈرنے کا اعلان! 🇵🇰⚖️
Spread the love

تاریخ / مقام: اسلام آباد / پشاور

سیاسی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

ملکی سیاسی منظرنامے میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے جب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اشارہ دیا ہے کہ آئینی تقاضے پورے ہونے اور ضرورت پڑنے پر خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے۔ اس بیان کے بعد وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

وفاقی وزراء اور گورنر کے پی کے بیانات

صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آئینِ پاکستان چیزوں کو انتہائی واضح کرتا ہے اور اگر ایسے حالات موجود ہیں یا پیدا ہوتے ہیں جہاں آئین اجازت دیتا ہے تو وہاں گورنر راج اور ایمرجنسی لگ سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئین کے اندر اس کا باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے، اور جب ضرورت پڑے گی تو یہ عمل نہ صرف ہوگا بلکہ سب کو نظر بھی آئے گا۔

قبل ازیں، وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی ابتر صورتحال اور وزیراعلیٰ کے اقدامات کے باعث گورنر راج کے تمام قانونی تقاضے پورے ہو چکے ہیں اور اس پر مشاورت جاری ہے۔ ادھر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے خبردار کیا کہ صوبائی حکومت کا رویہ اور لانگ مارچ جیسے اقدامات صوبے کی حکومت کے خاتمے کا سبب بن سکتے ہیں، کیونکہ صوبے میں بدترین گورننس اور کرپشن کے سنگین مسائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو مجبور نہ کیا جائے کہ صدرِ مملکت گورنر راج یا ایمرجنسی کی سمری پر دستخط کریں۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا دوٹوک مؤقف

دوسری جانب، ان تمام سیاسی دھمکیوں پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی ان گیدڑ بھپکیوں سے ہرگز نہیں ڈریں گے اور نہ ہی اپنے حق اور مؤقف سے ایک انچ پیچھے ہٹیں گے۔ پشاور میں امن و امان سے متعلق ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کے پی کے عوام، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے امن کی بحالی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور صوبے کے 80 ہزار سے زائد افراد نے پاکستان کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے شکوہ کیا کہ دو دہائیوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والے امن کو دوبارہ بدامنی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، اور انہوں نے دہشت گردوں کی مبینہ سرگرمیوں اور دوبارہ آبادکاری کے حوالے سے بارہا وفاق کو خبردار کیا تھا لیکن حکومت نے بروقت ایکشن لینے کے بجائے ان کی آواز کو پروپیگنڈا قرار دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے کے عوام کو کسی مخصوص مائنڈ سیٹ کے تجربات کا نشانہ بننے نہیں دیں گے اور کے پی کو دوبارہ دہشت گردی کی آگ میں جھونکنے کی پالیسی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔

G24 News Online ملکی سیاست، صوبائی و وفاقی تعلقات اور سیکیورٹی صورتحال سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *