Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

⚖️ حنا جاوید قتل کیس؛ گھریلو ملازم ذیشان کے دوران تفتیش اہم انکشافات، خاوند بھی قتل میں ملوث نکلا

⚖️ حنا جاوید قتل کیس؛ گھریلو ملازم ذیشان کے دوران تفتیش اہم انکشافات، خاوند بھی قتل میں ملوث نکلا
Spread the love

راولپنڈی/ کرائم ڈیسک: تھانہ سول لائن کے علاقے عسکری اپارٹمنٹس لال کڑتی میں پیش آنے والے ہولناک حنا جاوید قتل کیس میں پولیس تفتیش کے دوران سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ مقتولہ کے خاوند فیصل اصغر امام اور گھریلو ملازم ذیشان نے مبینہ طور پر گھریلو جھگڑے کے دوران خاتون کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے گلا گھونٹ کر قتل کیا۔

📌 ملازم ذیشان کے متضاد بیانات اور اصل حقیقت

پولیس تحویل سے لے کر ریمانڈ تک کے دوران گھریلو ملازم ذیشان نے اپنے بیانات میں بار بار یو ٹرن لیے:

  • پہلا بیان: واقعے کے فوری بعد تحویل میں لیے جانے پر ذیشان نے بیان دیا کہ اس نے فیصل امام کے ساتھ مل کر پلاننگ کے تحت حنا جاوید کو مارا۔
  • دوسرا بیان: اپنے دوسرے بیان میں ملازم نے سارا الزام خود پر لیتے ہوئے قتل اکیلے کرنے کا موقف اختیار کیا۔
  • حتمی بیان: باقاعدہ پولیس تفتیش کے دوران ذیشان نے تمام کڑیاں کھولتے ہوئے اعتراف کیا کہ میاں بیوی کے شدید جھگڑے کے دوران اسے بلایا گیا تھا، جہاں اس نے فیصل امام کی مدد کی۔

🔍 تفتیش میں سامنے آنے والے ہولناک حقائق

پولیس کی تفتیش سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ:

  • بھاگنے کی کوشش اور مزاحمت: میاں بیوی کے جھگڑے کے دوران جب حنا جاوید نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی تو دونوں نے اسے دبوچ لیا، اور مقتولہ کی شدید مزاحمت پر ملزمان نے اس کا گلا دبا دیا۔
  • خودکشی کا ڈراما: قتل کے بعد واقعے کو مبینہ خودکشی یا نامعلوم افراد کی کارروائی ظاہر کرنے کے لیے باتھ روم میں شاور کے ساتھ تار سے لٹکانے کا منصوبہ درمیانی وقفے میں بنایا گیا۔

پولیس اس اندوہناک قتل کیس میں مزید شواہد اکٹھا کر رہی ہے اور دونوں ملزمان سے گہرائی سے تفتیش جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *