اسلام آباد/ کرائم و انویسٹی گیشن ڈیسک: وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے اینٹی کرپشن یونٹ نے اسلام آباد میں ایک بڑے اور منظم گینگ کا پردہ فاش کیا ہے۔ غیر قانونی کال و ڈیجیٹل سینٹرز کے ذریعے دھوکا دہی، ویزہ قوانین کی خلافورزیوں اور غیر ملکی شہریوں سے بھاری رشوت لے کر امیگریشن کلیئرنس کروانے والے اس نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک چینی باشندے سمیت پولیس اور محکمہ پاسپورٹ کے دو اہم اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ ان کے قبضے سے 2 کروڑ روپے نقد بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
📌 اسکینڈل کا پس منظر اور گرفتاریوں کی کہانی
ایف آئی اے ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں اسلام آباد سے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث گرفتار کیے جانے والے بعض غیر ملکی شہریوں نے تفتیش کے دوران ہوشربا انکشافات کیے تھے۔
- ملزمان نے بتایا کہ غیر ملکی شہریوں اور کچھ سرکاری اداروں کے اہلکاروں پر مشتمل ایک منظم گینگ سرگرم ہے، جو رشوت کے عوض غیر ملکیوں کی آمدورفت (Movement)، سکیورٹی پروٹوکول اور امیگریشن کلیئرنس میں سہولت کاری فراہم کرتا ہے۔
- چینی شہری کا اعتراف: 15 اگست کو گرفتار چینی باشندے Xiao Jingping (عرف جیک/جیسن) نے انکشاف کیا کہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے اہلکار جنید مغل اور اسلام آباد پولیس کے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ (SPU) کے اہلکار ظفر اقبال کی ملی بھگت سے فی مسافر 80 ہزار روپے رشوت لے کر انہیں غیر قانونی طور پر امیگریشن کلیئرنس کی سہولت دی جاتی تھی۔ اس حوالے سے واٹس ایپ چیٹس اور ادائیگیوں کے شواہد بھی موبائل فونز سے برآمد ہوئے ہیں۔
💵 دو کروڑ روپے کیش برآمد اور چھاپہ مار کارروائی
ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون شہزاد ندیم بخاری کی ہدایت پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر عمر ارسلان اور ایس ایچ او راجہ فہیم پر مشتمل چھاپہ مار ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے غوری ٹاؤن اسلام آباد میں ملزم جنید مغل کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔
- گاڑی کے ٹرنک سے نقدی برآمد: ابتدائی پوچھ گچھ اور موبائل ڈیٹا کی جانچ کے بعد ملزم کی نشاندہی پر اس کی گاڑی کے ٹرنک میں رکھے ہوئے ایک بڑے ٹرنک سے 2 کروڑ روپے نقد (جو ایک سیاہ رنگ کے سوٹ میں چھپائے گئے تھے) برآمد کر کے قبضے میں لے لیے گئے۔
- دوسرے ملزم کی گرفتاری: جنید مغل کے انکشاف پر ایف آئی اے نے سیکٹر ایف الیون میں کارروائی کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس کے ایس پی یو اہلکار ظفر اقبال کو بھی دبوچ لیا، جن کے موبائل سے پاسپورٹس، ویزوں اور غیر ملکی مسافروں کی سہولت کاری کا تمام ریکارڈ مل گیا ہے۔
⚖️ مقدمہ درج اور مزید تفتیش جاری
ایف آئی اے نے چینی شہری سمیت تینوں مرکزی ملزمان کے خلاف اینٹی کرپشن ایکٹ کی دفعہ 5/2، اعانت جرم (دفعہ 109)، اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 161 اور 419 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق اس نیٹ ورک میں مبینہ طور پر ملوث دیگر اداروں کے اہلکاروں اور عناصر کے کردار کا تعین بھی جاری تفتیش میں کیا جائے گا۔




