تاریخ / مقام: واشنگٹن / مقبوضہ مغربی کنارے / اسلام آباد
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی مظالم اور پرتشدد کارروائیوں کا دائرہ اب صحافیوں تک بھی پھیل گیا ہے۔ امریکی مؤقر اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ (The Washington Post) نے اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کے کاشت کاروں پر حملے کی کوریج کرنے والی ان کی خاتون فوٹو جرنلسٹ ہیڈی لیوائن (Heidi Levine) کو اسرائیلی آبادکاروں نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
ابو فلاح میں 80 نقاب پوش آبادکاروں کا حملہ
موصولہ تفصیلات کے مطابق یہ دلخراش واقعہ مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں ابو فلاح میں پیش آیا۔ جہاں تقریباً 80 کے قریب نقاب پوش اسرائیلی آبادکاروں نے فلسطینی زیتون کے کاشت کاروں پر اچانک دھاوا بول دیا۔ حملہ آوروں نے نہ صرف فلسطینی کسانوں پر پتھراؤ کیا بلکہ زیتون کے قیمتی درختوں کو بھی آگ لگا دی۔
پریس کارڈ کے باوجود خاتون صحافی پر حملہ اور لوٹ مار
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، واشنگٹن پوسٹ کی فوٹو جرنلسٹ ہیڈی لیوائن نے جب اس وحشیانہ کارروائی کی فوٹوگرافی اور رپورٹنگ کرنے کی کوشش کی تو ان کی نمایاں شناخت اور پریس کارڈ کے باوجود انہیں نشانہ بنایا گیا۔
- آبادکاروں نے خاتون صحافی کو زبردستی زمین پر گرا دیا اور ان پر بار بار لاتیں برسائیں۔
- حملہ آوروں نے دورانِ تشدد ان کا کیمرہ اور موبائل فون بھی زبردستی چھین لیا۔
واشنگٹن پوسٹ کا سخت ردِعمل اور طبی امداد
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنے فوٹو جرنلسٹ پر ہونے والے اس جان لیوا حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اخبار کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ ہیڈی لیوائن کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کر دی گئی ہے اور وہ اس وقت محفوظ ہیں، تاہم پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے والی صحافی پر بلاجواز حملہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔
اخبار نے اسرائیلی اور مقامی حکام پر شدید زور دیا ہے کہ اس واقعے کی جامع اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور حملے میں ملوث تمام شرپسند عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔
پس منظر اور سرکاری ردِعمل
واضح رہے کہ یہ واقعہ مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی فصل کی کٹائی کے سیزن کے دوران پیش آیا ہے۔ زیتون کی فصل فلسطینی خاندانوں کی معیشت اور آمدنی کا سب سے اہم ذریعہ ہے، تاہم کٹائی کے اس موسم میں فلسطینی کسانوں کو اکثر انتہا پسند یہودی آبادکاروں کی جانب سے پرتشدد حملوں، ہراسانی اور فصل تباہ کرنے کی شکایات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے اس پرتشدد واقعے کا جائزہ لینے کی تصدیق کی ہے جبکہ پولیس نے باضابطہ طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، تاہم تاحال نامزد ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔
G24 News Online بین الاقوامی تنازعات، انسانی حقوق کی پامالیوں اور تمام اہم عالمی بریکنگ اپ ڈیٹس غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




