تاریخ / مقام: پشاور
سیاسی و انتظامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
خیبرپختونخوا میں پولیس ایکٹ میں نئی ترامیم اور صوبائی کابینہ کی جانب سے ’خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2026‘ کی منظوری کے بعد انتظامی اور قانونیحلقوں میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ اجلاس کے دوران انسپکٹر جنرل (آئی جی) خیبرپختونخوا نے مجوزہ ترامیم پر اپنا بھرپور مؤقف پیش کرتے ہوئے یاد دلایا کہ اس نوعیت کی ترامیم کو پشاور ہائی کورٹ پہلے ہی کالعدم قرار دے چکی ہے۔
آئی جی کا مؤقف اور چیف سیکریٹری کی تصدیق
ذرائع کے مطابق آئی جی نے کابینہ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پشاور ہائی کورٹ پولیس سربراہ سے اختیارات سلب کرنے یا منتقل کرنے سے متعلق ترامیم کو پہلے ہی کالعدم قرار دے چکی ہے، اور اجلاس کے دوران چیف سیکریٹری نے بھی آئی جی کے اس مؤقف کی مکمل تصدیق کی۔ آئی جی کا کہنا تھا کہ پولیس ایکٹ 2017 کا اصل مقصد محکمہ پولیس کو بااختیار اور عوام کے سامنے جواب دہ بنانا تھا، جبکہ مجوزہ پولیس ایکٹ کے تحت بعض اہم اختیارات وزیر اعلیٰ کو منتقل کیے جا رہے ہیں۔
نئے پولیس ایکٹ 2026 کے اہم خدوخال
دوسری جانب خیبرپختونخوا کابینہ نے تمام تحفظات کے باوجود خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2026 کی منظوری دے دی ہے۔ نئے قانون کے تحت وفاق سے تعلق رکھنے والے پولیس افسران کی غیر تسلی بخش کارکردگی کی صورت میں ان کی خدمات واپس کرنے کا مکمل اختیار صوبائی حکومت کے پاس ہوگا۔
صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مجوزہ قانون کے تحت ایک ’پولیس پالیسی بورڈ‘ قائم کیا جائے گا جس کی سربراہی وزیراعلیٰ کریں گے، جبکہ ’پولیس آپریشنز بورڈ‘ کی سربراہی آئی جی کے پاس ہوگی۔ صوبے میں ریجنل انویسٹی گیشن افسران تعینات کیے جائیں گے، اور ریجنل پولیس افسران (RPOs) نیز ڈسٹرکٹ پولیس افسران (DPOs) کی تعیناتی اور تبادلوں کے امور خیبرپختونخوا رولز آف بزنس 1985 کے تحت انجام پائیں گے۔
مستقبل کے انتظامات اور اصلاحات
صوبائی وزیر نے مزید واضح کیا کہ نئے قانون کے تحت پولیس کے پالیسی امور اور آپریشنل معاملات کو ایک دوسرے سے بالکل الگ کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ صوبے بھر میں موجود تمام سابقہ ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسلز (DRCs) کو تحلیل کر کے نئے قانون کے تحت ان کی ازسرنو تشکیل کی جائے گی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ مجوزہ قانون صوبے کے پولیس نظام میں بڑی اور موثر اصلاحات متعارف کرانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
G24 News Online انتظامی امور، قانون سازی اور صوبائی حکومت کی پالیسیوں سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




