ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

وفاق اگر پولیس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرے گا تو صوبائی حکومت اقدامات کرے گی؛ وزیراعلیٰ کے پی کا دوٹوک اعلان! 🇵🇰📉

وفاق اگر پولیس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرے گا تو صوبائی حکومت اقدامات کرے گی؛ وزیراعلیٰ کے پی کا دوٹوک اعلان! 🇵🇰📉
Spread the love

تاریخ / مقام: پشاور

سیاسی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے منعقدہ اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اگر کسی بھی وفاقی ادارے کی جانب سے پولیس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا گیا تو صوبائی حکومت اس پر خاموش نہیں بیٹھے گی اور عملی اقدامات اٹھائے گی۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پولیس کے لیے تاریخی فنڈز

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ گزشتہ 22 سال سے خیبرپختونخوا کے عوام اور پولیس مسلسل دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ پولیس اور عوام کی قربانیوں کے نتیجے میں 2018 سے 2022 کے دوران صوبے میں امن قائم ہوا، تاہم 2022 کے رجیم چینج آپریشن اور ریاست کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے صوبے میں دوبارہ دہشت گردی کو لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج غلط پالیسیوں کے باعث ہمارے فوجی جوان، پولیس اہلکار اور عام شہری شہید ہو رہے ہیں، کیونکہ جب تک امن نہیں ہوگا تب تک ترقی اور خوشحالی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ 15 اکتوبر 2025 کو حکومت سنبھالنے کے بعد پولیس کے لیے تاریخ میں بے مثال فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔ گزشتہ سال سالانہ بجٹ سے ہٹ کر پولیس کو 35 ارب روپے اضافی دیے گئے، جبکہ رواں سال پولیس کا بجٹ 80 ارب روپے سے بڑھا کر 190 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

اے پی سیز کی فراہمی میں تاخیر اور جیمرز کا مطالبہ

سہیل آفریدی نے شکوہ کیا کہ ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (HIT) فوج کے ماتحت ہے اور گزشتہ سال ادائیگی کے باوجود خیبرپختونخوا کی اے پی سیز (APCs) اب تک فراہم نہیں کی گئیں، جبکہ اسلام آباد کے لیے جدید اے پی سیز تیار کر کے دے دی گئی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ این آر ٹی سی (NRTC) اور ایچ آئی ٹی کی جانب سے جیمرز، اے پی سیز اور دیگر دفاعی آلات جلد از جلد فراہم کیے جائیں۔

پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد رکھنے اور پرامن احتجاج کا عزم

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے بجائے کسی سیاسی جماعت کو ختم کرنا اور عمران خان کو جھکانا ترجیح بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حلف اٹھانے کے بعد سے انہوں نے کبھی کسی پولیس افسر کو کوئی غلط یا غیر قانونی حکم نہیں دیا، اور جب بطور چیف ایگزیکٹو وہ خود پولیس کو غلط احکامات نہیں دیتے تو کسی اور کو بھی ایسا حق حاصل نہیں۔ انہوں نے پولیس کو ہدایت کی کہ وہ کسی بھی غلط حکم کی بھرپور مزاحمت کرے جیسا کہ انہوں نے 8 فروری 2024 کو کیا تھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہم کوئی مسلح جدوجہد یا یلغار کرنے نہیں بلکہ پرامن احتجاج کرنے جا رہے ہیں، اور جب تک آئین میں ‘رائٹ ٹو اسمبلی’ موجود ہے، ہم اپنا جمہوری حق استعمال کرتے رہیں گے۔

G24 News Online سیاسی پیش رفت، انتظامی امور اور عوامی حقوق سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *