تاریخ / مقام: لاہور
کرائم ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس سی میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی غیر ملکی لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے ہولناک واقعے کی تفتیش میں سنسنی خیز اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مقدمے میں ملوث ایک مرکزی ملزم کو دبوچ لیا ہے، جبکہ طبی رپورٹ میں بھی جنسی زیادتی کی تصدیق ہو گئی ہے۔
مرکزی ملزم محسن کی گرفتاری اور دیگر کی تلاش
پولیس ذرائع کے مطابق ڈیفنس سی کے علاقے میں غیر ملکی لڑکی کے ساتھ پیش آنے والے اس گھناؤنے واقعے میں ملوث ایک مرکزی ملزم ‘محسن’ کو پولیس نے کامیاب چھاپے کے دوران گرفتار کر لیا ہے۔ تاہم، واقعے میں ملوث دیگر دو مرکزی ملزمان احمد تنویر اور اس کا ساتھی زین تاحال فرار ہیں، جن کی گرفتاری کے لیے پولیس کی خصوصی ٹیمیں مختلف علاقوں میں مسلسل چھاپے مار رہی ہیں۔ پولیس کے مطابق تمام مرکزی ملزمان کی گرفتاری کے فوری بعد ان کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی کروایا جائے گا۔
کینٹ کچہری میں دفعہ 164 کے تحت بیان اور میڈیکل رپورٹ
پیر کے روز متاثرہ غیر ملکی لڑکی ‘ڈیانا’ کو انتہائی سخت سیکیورٹی حصار میں لاہور کی کینٹ کچہری میں پیش کیا گیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ محمد صغیر کے روبرو متاثرہ خاتون کا تفصیلی بیان دفعہ 164 کے تحت قلمبند کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق خاتون کا بیان ایک گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہا، جس کے بعد سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر خاتون کو انتہائی رازداری اور خفیہ راستے سے احاطہ عدالت سے روانہ کیا گیا۔ دوسری جانب، متاثرہ خاتون کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں بھی جنسی زیادتی کی باضابطہ تصدیق کر دی گئی ہے۔
متاثرہ خاتون کی ٹریول ہسٹری اور بیانات پر پولیس کے شبہات
اس کیس میں تفتیش کے دوران کئی دلچسپ اور مشکوک پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ معاونت اور سہولت کاری کے الزام میں حراست میں لیے گئے 3 افراد سمیت مجموعی طور پر 5 گرفتار افراد نے اس معاملے کو کافی مشکوک بنا دیا ہے۔ پولیس کے مطابق متاثرہ غیر ملکی خاتون کی ٹریول ہسٹری اور بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے؛ ابتدائی طور پر لڑکی کے پاکستان میں کپڑے کا کاروبار کرنے کے حوالے سے کوئی معتبر شواہد یا ثبوت حاصل نہیں ہو سکے ہیں۔ اس کے علاوہ، خاتون کے بار بار (تین مرتبہ) لاہور آنے کی وجوہات بھی مشکوک محسوس ہوتی ہیں کیونکہ یہاں قیام کے دوران اس کے متعدد افراد کے ساتھ رابطے میں رہنے کے انکشافات ہوئے ہیں۔ پولیس زیادتی اور رضامندی سمیت تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر باریک بینی سے تفتیش کر رہی ہے۔
واقعے کا پس منظر
واضح رہے کہ متاثرہ غیر ملکی خاتون نے اپنے ابتدائی بیان میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ گزشتہ 15 سے 20 روز سے کاروباری سلسلے میں پاکستان میں مقیم ہے۔ 25 ستمبر کی رات دو نامعلوم لڑکیوں نے اسے ڈنر کے بہانے ایک کیفے میں بلایا، جہاں تین نامعلوم مرد پہلے سے موجود تھے۔ خاتون کا الزام تھا کہ یہ افراد اسے زبردستی گاڑی میں بٹھا کر سیر کرانے کے بہانے ایک فلیٹ پر لے گئے، جہاں اسے نشہ آور چیز پلا کر بے ہوش کیا گیا اور پھر تینوں افراد نے باری باری اس کے ساتھ مبینہ زیادتی کا ارتکاب کیا۔
G24 News Online قانون کی بالادستی، خواتین کے تحفظ اور کرائم رپورٹس سے جڑی تمام مصدقہ اور تازہ ترین خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




