لاہور/ قانونی ڈیسک: لاہور ہائیکورٹ نے غیرت کے نام پر قتل کے ایک اہم کیس میں بڑا اور دوٹوک فیصلہ جاری کرتے ہوئے فریقین کے درمیان ہونے والا راضی نامہ مسترد کر دیا ہے اور نامزد ملزمان محمد ناصر اور پرویز کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی ہیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اس قبیح فعل میں قانون اور مذہب کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیںاتے۔
📌 عدالت کا فیصلہ اور اہم نکات
جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے اہم فیصلے میں مندرجہ ذیل قانونی نکات اجاگر کیے ہیں:
- ناقابلِ راضی نامہ جرم: عدالت نے قرار دیا کہ غیرت کے نام پر قتل ایک ناقابلِ راضی نامہ جرم ہے اور ایسے مقدمات میں فریقین کے درمیان ہونے والا سمجھوتا یا راضی نامہ ملزم کو ضمانت حاصل کرنے کا کوئی قانونی حق فراہم نہیں کرتا۔
- بہیمانہ الزام: ملزمان پر 18 سالہ لڑکی نجمہ مائی کو غیرت کے نام پر فائرنگ کر کے بیدردی سے قتل کرنے کا الزام ہے۔
- مذہب اور قانون کی سختی: عدالت نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ نہ تو ملکی قانون اور نہ ہی مذہب کسی شخص کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ غیرت کے نام پر کسی دوسرے انسان کی جان لے۔
📜 آئینی تشریح اور قانونی نقاط
- آرٹیکل 9 کی خلاف ورزی: لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق غیرت کے نام پر قتل آئین کے آرٹیکل 9 میں دیے گئے بنیادی حقِ زندگی اور آزادی سے صریحاً متصادم ہے۔
- آرٹیکل 8 کا اطلاق: بنیادی حقوق سے متصادم کسی بھی فرسودہ رسم یا رواج کو آئین کے آرٹیکل 8 کی روشنی میں کسی صورت قابلِ قبول قرار نہیں دیا جا سکتا۔
- بیانات سے انحراف غیر موثر: عدالت نے واضح کیا کہ مدعی اور گواہوں کی جانب سے سابقہ بیانات سے منحرف ہونے کے لیے پیش کیے جانے والے حلف نامے بھی ضمانت کی درخواست منظور کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔
- دفعہ 311 کے تحت کارروائی: تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 311 کے تحت غیرت کے نام پر قتل ناقابلِ راضی نامہ ہے، اسی قانونی اصول کی بنیاد پر محمد ناصر اور پرویز کی درخواستیں مسترد کی گئیں۔




