اسلام آباد/ قومی ڈیسک: اسلام آباد میں یومِ آزادی کی تقریب کے دوران چیئرمین سی ڈی اے اور آئی جی اسلام آباد کی شاہی بگھی پر سوار ہو کر آمد کے واقعے نے سوشل میڈیا اور مین میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑا دی تھی۔ اس انوکھے منظر کو جہاں بعض حلقوں کی جانب سے برطانوی راج کے دور سے تعبیر کیا گیا، وہیں اب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس معاملے پر باضابطہ وضاحت جاری کر دی ہے۔
📌 واقعے کا پس منظر اور تقریب میں تاخیر
- ڈی چوک کی تقریب: رواں سال 14 اگست کو یومِ آزادی کے موقع پر اسلام آباد کے ڈی چوک میں سٹی پریڈ کا انعقاد کیا گیا تھا، جس کا وقت شام 5 بجے مقرر تھا مگر تقریب تاخیر کا شکار ہو گئی۔
- بگھی پر افسران کی انٹری: تقریب کے میزبان چیئرمین سی ڈی اے (ریٹائرڈ لیفٹیننٹ سہیل اشرف) اور آئی جی اسلام آباد (سید علی ناصر رضوی) مہمانِ خصوصی کی بجائے شاہی بگھی پر سوار ہو کر پریڈ گراؤنڈ میں داخل ہوئے، جس پر عوام اور میڈیا کی جانب سے کڑی تنقید کی گئی کہ آیا سرکاری افسران کے لیے بگھی کا استعمال مناسب تھا یا نہیں۔
🗣️ وزیر داخلہ محسن نقوی کا تفصیلی وضاحتی بیان
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے تمام ذمہ داری اپنے سر لے لی اور افسران کو کلیئر قرار دیا:
- مہمانِ خصوصی کی آمد میں تاخیر: محسن نقوی نے بتایا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم کی اہم ملاقات کے باعث مہمانِ خصوصی (سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق) اور خود وزیر داخلہ کو تقریب میں پہنچنے میں تاخیر ہو گئی۔
- عوام کے انتظار کا پیشِ نظر فیصلہ: چونکہ عوام اور ہجوم شام 5 بجے سے منتظر تھا، اس لیے جب یہ واضح ہوا کہ وزراء اور مہمانِ خصوصی کو آنے میں وقت لگے گا، تو منتظمین کو ہدایت دی گئی کہ وہ عوام کی سہولت کے پیشِ نظر تقریب کا آغاز کر دیں۔
- بگھی کا استعمال ناگزیر حالات کا نتیجہ: وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ شاہی بگھی اصل میں مہمانِ خصوصی کے لیے مختص تھی، تاہم ناگزیر حالات اور مجبوری کے تحت افسران کو یہ قدم اٹھانا پڑا، اور اس میں متعلقہ افسران کی کوئی غلطی نہیں تھی۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ افسران نے ابتدا میں مہمانِ خصوصی کی غیر موجودگی میں پروگرام شروع کرنے پر ہچکچاہٹ کا اظہار کیا تھا۔
آخر میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد کے غیور شہریوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے 14 اگست کی تقریب کو ایک حقیقی جشن بنانے میں بھرپور شرکت کی۔




