Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

🏛️ چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات سے متعلق ‘پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026’ اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی بل پارلیمنٹ سے منظور

🏛️ چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات سے متعلق ‘پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026’ اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی بل پارلیمنٹ سے منظور
Spread the love

اسلام آباد/ پارلیمانی ڈیسک: قومی اسمبلی اور سینیٹ کے جاری اجلاسوں میں کثرت رائے سے اہم قانون سازی کرتے ہوئے “پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026” اور “نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ ترمیمی بل 2026” کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس قانون سازی کے ذریعے چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) کے عہدے اور اس کے دائرہ کار و اختیارات کو باضابطہ قانونی شکل دے دی گئی ہے۔

📌 پارلیمنٹ میں کارروائی اور اپوزیشن کا احتجاج

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف بھی ایوان میں موجود رہے، جنہوں نے اپوزیشن نشستوں پر جا کر اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر اور عامر ڈوگر سے ملاقات کی۔

  • ضمنی ایجنڈے پر اختلاف: اجلاس میں پیش کیے جانے والے ضمنی ایجنڈے اور بلز کی کاپیاں فراہم نہ کرنے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔
  • واک آؤٹ: اپوزیشن اراکین نے بل کی منظوری کے دوران ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ سینیٹ میں بھی اپوزیشن کی جانب سے بلز پر بحث کا مطالبہ کیا گیا، تاہم حکومتی اکثریت کے ساتھ یہ بلز منظور کر لیے گئے۔

📜 پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026 کے اہم نکات

وفاقی کابینہ کی منظوری اور پارلیمنٹ سے پاس ہونے والے اس نئے ایکٹ کے نمایاں خدوخال درج ذیل ہیں:

  • دفاعی ہیڈ کوارٹر کا قیام: ایکٹ کے تحت تمام مسلح افواج کا ایک مشترکہ ہیڈ کوارٹر قائم کیا جائے گا جو چیف آف ڈیفنس فورسز کی کمان اور اختیارات کے تحت فرائض سرانجام دے گا۔
  • وزیراعظم کا عسکری مشیر: ڈیفنس ہیڈ کوارٹر قومی سلامتی، دفاع اور مسلح افواج سے متعلق تمام امور میں وزیراعظم کا اعلیٰ فوجی مشیر ہوگا۔
  • آپریشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول: چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کی عملی کمانڈ اور کنٹرول کا اختیار حاصل ہوگا، اور وہ اس ضمن میں براہِ راست وفاقی حکومت کو جوابدہ ہوں گے۔
  • انتظامی اختیارات: سی ڈی ایف کے پاس متعلقہ قوانین کے مطابق کسی شخص کی ملازمت میں تقرر، ریٹائرمنٹ، سبک دوشی، برطرفی، یا استعفیٰ منظور/مسترد کرنے کے اختیارات ہوں گے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر قانون اعظم Nazeer تارڑ نے ایوان کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ قانون سازی 27ویں آئینی ترمیم کے تسلسل میں کی گئی ہے تاکہ تینوں مسلح افواج کے درمیان موثر کوآرڈینیشن اور دفاعی امور کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *