تاریخ / مقام: اسلام آباد
قومی و بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کی سیاسی و امن و امان کی صورتحال، حوثی حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ دفاعی پاکستان کے عزم، آئی ایم ایف معاہدے اور عالمی ثالثی کی کوششوں پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔
خیبر پختونخوا کی صورتحال اور لانگ مارچ پر سخت موقف
وزیراعظم شہباز شریف نے واضح الفاظ میں کہا کہ اسلام آباد پر چڑھائی اب کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور دہشت گردی پر خاموشی ملک دشمنی کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا:
- “یہ لوگ لانگ مارچ کے ذریعے اسلام آباد پر چڑھائی کر کے ماضی کی بھیانک یادوں کو دہرانا چاہتے ہیں تاکہ ملک دوبارہ تباہی کی طرف چلا جائے، لیکن اب پانی سر سے اوپر جا چکا ہے اور یہ حتمی فیصلے کا وقت ہے۔”
- خیبر پختونخوا میں فورسز اور شہریوں کو بے دردی سے شہید کیا جا رہا ہے۔ افغانستان کو سمجھایا کہ ہم ہمسائے ہیں مگر وہ اغیار کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔
- کے پی حکومت دہشت گردوں کو للکارنے کے بجائے مکمل خاموش ہے اور ایک لفظ بولنے کو تیار نہیں، حالانکہ گزشتہ 10 سال میں کے پی کو دہشت گردی کے خلاف 800 ارب روپے دیے جا چکے ہیں۔
- انہوں نے اعتراف کیا کہ مولانا فضل الرحمان نے خلوصِ نیت کے ساتھ بات چیت اور مسئلہ حل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ اور حوثی حملوں کی مذمت
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب چین کی طرح پاکستان کا انتہائی بااعتماد اور دیرینہ دوست ہے۔
انہوں نے کہا:
- “سعودی عرب کے ساتھ ہمارا باضابطہ دفاعی معاہدہ موجود ہے” اور پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
- حوثی باغیوں کی جانب سے کی جانے والی حالیہ جارحیت انتہائی قابلِ مذمت ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔ بیت اللہ اور مکہ مکرمہ کی حرمت کی حفاظت دنیا بھر کے مسلمانوں پر فرض ہے۔
- باب المندب اور خطے میں خونی کھیل قابلِ افسوس ہے، اور پاکستان کی خواہش ہے کہ یہ تمام تمام معاملے خوش اسلوبی اور امن سے حل ہوں۔
آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر قسط اور عالمی ثالثی میں پاکستان کا کردار
معاشی و عالمی محاذ پر کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ:
- آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ طے پا چکا ہے اور 1.2 ارب ڈالر کی قسط رواں سال ہی موصول ہو جائے گی۔ امریکہ میں آئی ایم ایف ایم ڈی نے پاکستان کی معاشی اصلاحات کا اعتراف کیا ہے۔
- سیاسی و عسکری قیادت نے مل کر ملک کو معاشی دلدل سے نکالا ہے۔
- عالمی سربراہانِ مملکت نے امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع میں پاکستان کی جنگ بندی کی کوششوں کو سراہا ہے۔
- فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس عالمی ثالثی اور سفارتی کوششوں میں انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
G24 News Online ملکی و بین الاقوامی پیش رفت، وزیراعظم کے اہم بیانات اور تمام بریکنگ اپ ڈیٹس غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




