ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی عرب کے ریاض اور ابہا ایئرپورٹس پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت! 🚨✈️

وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی عرب کے ریاض اور ابہا ایئرپورٹس پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت! 🚨✈️
Spread the love

وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی عرب کے ریاض اور ابہا ایئرپورٹس پر حوثی حملوں کی شدید مذمت؛ سعودی سلامتی کے عزم کا اعادہ

تاریخ / مقام: اسلام آباد / ریاض

قومی و دفاعی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور ابہا ایئرپورٹس پر حوثی ملیشیا کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور برادر ملک کی قیادت و عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم نے افسوس کا اظہار کیا کہ حوثی ملیشیا کے ان بار بار حملوں کے نتیجے میں معصوم شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔

سعودی مسلح افواج کی مستعدی کو خراجِ تحسین

وزیراعظم نے سعودی مسلح افواج اور اتحادی اتحاد کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ معصوم جانوں کے تحفظ اور مملکت کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے سعودی افواج کی یہ کوششیں انتہائی قابلِ تحسین ہیں۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور عزمِ نو کا اعادہ

شہباز شریف نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان برادر ملک سعودی عرب کی قیادت اور عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے حالیہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پاکستان کا ہر قدم غیر متزلزل ہوگا۔

وزیراعظم نے سعودی عرب کے اپنے عوام، شہروں اور اہم تنصیبات کے دفاع کے جائز حق کی بھرپور حمایت کی اور حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ حملے فوری طور پر بند کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں امن اور سلامتی کے ان تمام خطرات کے مقابلے میں پاکستان سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔

G24 News Online ملکی دفاع، خارجہ امور اور تمام اہم قومی خبریں غیر جانبدارانہ اور مستند انداز میں اپنے قارئین تک پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *