تاریخ / مقام: اسلام آباد
قومی و سیاسی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سیاسی مذاکرات اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے متعلق سنسنی خیز دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ مذاکراتی مسودے (Draft) کی حتمی منظوری کے لیے پاکستان کے بجائے افغانستان میں رابطے کر رہے تھے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایات اور کاوشوں پر جو سیاسی مذاکرات شروع کیے گئے تھے، وہ مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے تھے اور حکومت کو اس پر پیش رفت اور کامیابی کی قوی امید تھی۔
مذاکراتی ڈرافٹ اور افغانستان سے رابطوں کا الزام
وفاقی وزیر نے مذاکراتی عمل کے پسِ پردہ حقائق پر سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا:
“گفتگو کے دوران جو چوتھا ڈرافٹ (Draft) تیار ہوا تھا، اس کی حتمی اور فائنل منظوری وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے دینی تھی۔ تاہم موصول ہونے والی معتبر اطلاعات کے مطابق وہ اس انتہائی اہم اور حساس دستاویز کی منظوری کے لیے افغانستان سے احکامات لے رہے تھے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی کا موقف تھا کہ پی ٹی آئی بانی عمران خان سے براہِ راست ملاقات کے بغیر کسی بھی قسم کی پیش رفت ممکن نہیں۔ طارق فضل چوہدری کے مطابق اگر اس وقت ملاقات کا ٹائم فریم اور متفقہ فارمولا طے پا جاتا تو آج ملکی سیاسی حالات بالکل مختلف ہوتے۔
پی ٹی آئی کے 40 اراکینِ اسمبلی سے متعلق بڑا دعویٰ
حکومت اور اپوزیشن کے آئندہ کے لائحہ عمل اور سیاسی حکمتِ عملی پر بات کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے دعویٰ کیا کہ اگر پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے ایوانوں یا اسمبلیوں سے اجتماعی استعفے دینے کا کوئی بھی حتمی فیصلہ کیا گیا، تو پی ٹی آئی کی اپنی جماعت کے کم از کم 40 ارکانِ اسمبلی کسی صورت اس فیصلے پر عمل نہیں کریں گے اور وہ اپنی نشستوں پر برقرار رہیں گے۔
G24 News Online قومی سیاست، حکومت اپوزیشن مذاکرات، اور تمام اہم بریکنگ اپ ڈیٹس غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




