ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

صومالی قزاقوں کی قید سے رہا ہونے والے بقیہ تینوں پاکستانی ملاح کراچی پہنچ گئے؛ ایئرپورٹ پر شاندار استقبال! ✈️👏

صومالی قزاقوں کی قید سے رہا ہونے والے بقیہ تینوں پاکستانی ملاح کراچی پہنچ گئے؛ ایئرپورٹ پر شاندار استقبال! ✈️👏
Spread the love

تاریخ / مقام: کراچی

قومی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

صومالی بحری قزاقوں کی قید سے رہائی پانے والے باقی ماندہ تینوں پاکستانی ملاح ایتھوپین ایئر لائن کی پرواز کے ذریعے بحفاظت کراچی پہنچ گئے ہیں۔ جناح بین الاقوامی ایئرپورٹ پر وطن واپس پہنچنے والے ان ملاحوں کا انتہائی پُرجوش اور جذباتی استقبال کیا گیا۔

ایئرپورٹ پر اعلیٰ شخصیات کی آمد اور استقبال

کراچی ایئرپورٹ پر پہنچنے والے ملاحوں کا استقبال کرنے والوں میں گورنر سندھ نہال ہاشمی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق کے علاوہ وزارتِ خارجہ، پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران شامل تھے۔ اس موقع پر سیاسی و حکومتی شخصیات نے بازیاب ہونے والے ملاحوں اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔

امدادی پیکج پر عمل درآمد کا اعلان

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نہال ہاشمی نے اعلان کیا کہ بحری قزاقی کے اس المناک واقعے میں جاں بحق ہونے والے عملے کے تینوں ارکان کے اہل خانہ، زخمیوں اور زندہ بچ جانے والے تمام سات ارکان کے لیے حکومت کے اعلان کردہ امدادی پیکج پر عمل درآمد آئندہ دو روز کے اندر کر دیا جائے گا۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ یہ یقیناً ان خاندانوں کے لیے انتہائی خوشی کا موقع ہے جو پانچ ماہ سے اپنے پیاروں کا انتظار کر رہے تھے، تاہم کچھ پاکستانی خاندان ایسے بھی ہیں جن کے پیارے اس سانحے میں شہید ہوئے، اور بحیثیت قوم ہمیں اس کڑے وقت میں متاثرہ خاندانوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔

رہائی پانے والے ملاح اور ان کا پس منظر

صومالی قزاقوں کی قید سے رہائی پانے والے تینوں کریو ممبران میں سیکنڈ انجینئر حسین یوسف، عمران علی جونیجو اور محمد یاسین شامل ہیں۔ ان میں سے دو ملاحوں کا تعلق کراچی جبکہ ایک کا تعلق سوات سے ہے۔ طویل قید اور ذہنی اذیت کے بعد جب یہ غازی وطن پہنچے تو ایئرپورٹ پر موجود ان کے اہل خانہ نے انتہائی جذباتی انداز میں اپنے پیاروں کو گلے لگایا۔

قید کی ہولناکیاں اور فوجی آپریشن کی روداد

وطن واپسی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملاحوں نے انکشاف کیا کہ قید کے پانچ ماہ ان کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں تھے۔ سیکنڈ انجینئر حسین یوسف نے بتایا کہ 21 اپریل کو بحری قزاقوں نے جہاز کو یرغمال بنایا تھا اور 29 ستمبر کو جہاز پر بازیابی کے لیے آپریشن شروع کیا گیا۔ اتنی شدید فائرنگ ہو رہی تھی کہ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا، اس دوران ہمارے تین پاکستانی بھائی شہید ہو گئے جبکہ ایک بھارتی چیف کک اور میانمار کا چیف انجینئر بھی ہلاک ہوئے۔

عملے کے رکن محمد یاسین نے بتایا کہ بحری قزاقوں نے ان کے بیشتر ساتھیوں کو ریلنگ سے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا، وہ وقت سب کے لیے انتہائی کڑا تھا مگر اللہ کے فضل سے وہ معجزانہ طور پر بچ گئے۔ عمران علی جونیجو کا کہنا تھا کہ پانچ ماہ کے دوران جو کچھ ان پر بیتا وہ لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ ہر روز ایک نئے امتحان سے گزرتے تھے۔

طبی معائنہ اور فالو اپ

جناح پوسٹ گر্যাجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC) کی ڈاکٹر امبر نے میڈیا کو بتایا کہ زخمی ملاح بظاہر مکمل طور پر صحت مند ہیں، اس لیے انھیں فی الحال گھر بھیجا جا رہا ہے، تاہم اگر انھیں کوئی جسمانی درد، زخم یا کسی قسم کی جذباتی (Emotional Support) اور نفسیاتی مدد کی ضرورت ہوئی تو اس کے لیے انھیں اگلے روز دوبارہ جے پی ایم سی بلایا گیا ہے تاکہ ان کا مکمل طبی معائنہ ہو سکے۔

G24 News Online وطن کے غیور سپوتوں، بین الاقوامی سطح پر پیش آنے والے واقعات اور تمام اہم قومی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *