اسلام آباد/ عدالتی رپورٹر: سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کے پیشِ نظر انہیں ‘الشفاء انٹرنیشنل اسپتال’ منتقل کرنے اور ان کے ذاتی معالجین و اہل خانہ سے ملاقات کروانے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی بیماری پر سیاست نہ کی جائے اور اسپتال کے باہر کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی یا میڈیا ٹاک کی سخت ممانعت ہوگی۔
📌 عدالت عظمیٰ کا حکم نامہ: اہم نکات
- اسپتال منتقلی: عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو الشفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
- طبی سہولیات اور بورڈ: ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر غطمیٰ کو رسائی دی جائے گی۔ اس کے علاوہ ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے گا جس میں ماہرِ آنکھ اور جنرل میڈیسن کے ڈاکٹرز شامل ہوں گے۔
- اخراجات: بانی پی ٹی آئی کے علاج معالجے کے تمام تر اخراجات ان کے اہل خانہ برداشت کریں گے۔
- خاندان سے ملاقات: حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی فیملی کے ساتھ ہفتہ وار ملاقاتوں کا انتظام کیا جائے، جبکہ انہیں اپنے بچوں کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔
⚠️ سخت شرائط اور ہدایات
عدالت نے اس ریلیف کے ساتھ کچھ سخت شرائط بھی عائد کی ہیں:
- سیاست پر پابندی: اسپتال کے باہر کسی بھی قسم کا سیاسی اجتماع، پریس کانفرنس یا میڈیا ٹاک نہیں ہوگی۔
- خفیہ رپورٹ: بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹس کو مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے گا اور انہیں کسی بھی سیاسی مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
- انتباہ: عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگر احکامات کی خلاف ورزی کی گئی تو یہ آرڈر واپس لے لیا جائے گا، اور حکومت یا فریقین خلاف ورزی کی صورت میں دوبارہ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔
🗣️ دورانِ سماعت عدالتی ریمارکس
کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید اور جسٹس نعیم اختر افغان نے اہم مشاہدات پیش کیے:
- صحت کی تشویش: جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ میڈیکل رپورٹس کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے وائیٹل آرگنز (اہم اعضاء) متاثر ہو رہے ہیں، دل کا مسئلہ ہے اور وہ ذہنی اضطراب کا شکار ہیں۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ “ان کی نبض نارمل ہے اور نہ ہی دل۔”
- بنیادی حق: عدالت نے کہا کہ بانی کی صحت پر سیاست نہ کریں، بلکہ ان کی بہتری کی بات کریں۔ ملاقات کروانا کوئی مہربانی نہیں بلکہ ان کا بنیادی انسانی حق ہے، ریاست بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کر سکتی۔
- ریکارڈ کی طلبی: عدالت نے بانی پی ٹی آئی کا مکمل میڈیکل ریکارڈ، تین سال میں بہنوں سے ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات اور بچوں سے بات چیت کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے۔
🏛️ سرکاری مؤقف اور کیس کا اگلا مرحلہ
- ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی مخالفت: ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالتی حکم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس معاملے پر کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔
- ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد: انہوں نے بتایا کہ بہنوں سے ملاقاتوں کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل میں زیر التوا ہے۔
- مقدمات کی تفصیل: عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف زیر سماعت مقدمات، سزاؤں اور معطل شدہ سزاؤں کی مکمل تفصیل بھی طلب کر لی ہے۔




