تاریخ / مقام: واشنگتن / نیش وِل
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت کے نفاذ کے دوران ایک انتہائی غیر معمولی اور حیرت انگیز واقعہ پیش آیا ہے، جہاں سزائے موت پانے والی 50 سالہ قیدی کرسٹا پائیک کو زہریلا انجکشن دے کر موت کی سزا دینے کی کوشش ناکام ہو گئی اور وہ دو مرتبہ مہلک دوا دیے جانے کے باوجود زندہ بچ گئیں۔
واقعے کی تفصیلات اور نیش وِل جیل کا واقعہ
رپورٹس کے مطابق کرسٹا پائیک کو بدھ کی رات نیش وِل کے ’ریوربینڈ میکسیمم سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن‘ میں مہلک انجکشن دیا گیا۔ پائیک کے وکلا نے انکشاف کیا ہے کہ حکام کی جانب سے ’پینٹوباربیٹل‘ (Pentobarbital) کی دو خوراکیں دی گئیں، تاہم وہ بے ہوش نہیں ہوئیں اور ایک گھنٹے سے زیادہ عرصے تک ان کی سانسیں اور خراٹے سنائی دیتے رہے۔ اس غیر معمولی صورتحال کے بعد حکام نے انہیں فوری طور پر ایمبولینس کے ذریعے قریبی اسپتال منتقل کر دیا، جہاں وہ زیرِ علاج ہیں۔
مقدمے کا پس منظر
کرسٹا پائیک کو یہ سزائے موت 1995 میں اپنی 19 سالہ ہم جماعت کولین سلیمر (Colleen Slemmer) کے قتل کے جرم میں سنائی گئی تھی، جو انہوں نے اس وقت 18 سال کی عمر میں کیا تھا۔ ان کے وکلا نے اس سزا کے خلاف طویل قانونی جنگ لڑی جس میں ان کی کم عمر، بچپن میں جنسی زیادتی کے الزامات اور ذہنی صحت سے متعلق مسائل کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ بدھ کے روز امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے نچلی عدالت کا حکم امتناع ختم کیے جانے کے بعد ریاست نے سزا پر عملدرآمد شروع کیا تھا۔
گورنر کا سخت اقدام اور تمام سزاؤں کی معطلی
اس ناکام واقعے کے بعد ٹینیسی کے گورنر بل لی نے ریاست میں سال 2026 کے باقی تمام سزائے موت کے عملدرآمد فوری طور پر معطل کر دیے ہیں، اور کرسٹا پائیک کے اس ناکام عملدرآمد کی جامع اور آزادانہ تحقیقات کا حکم صادر کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد دسمبر میں سزائے موت پانے والے ایک اور قیدی گیری وین سٹن کی سزا پر بھی عمل روک دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ٹینیسی میں رواں سال سزائے موت پر عملدرآمد کی یہ دوسری ناکام کوشش ہے۔ اس سے قبل مئی میں بھی حکام ایک دوسرے قیدی ٹونی کارتھرز کو مہلک انجکشن دینے کے لیے مناسب رگ تلاش کرنے میں ناکام رہے تھے اور عملدرآمد روک دیا گیا تھا۔ محکمہ اصلاحات کا کہنا ہے کہ تمام قانونی پروٹوکولز پر عمل کیا گیا تھا، تاہم دو خوراکیں دینے کے باوجود موت واقع نہ ہونے کی وجوہات پر تحقیقات جاری ہیں۔
G24 News Online بین الاقوامی قانون، عدلیہ کے فیصلوں اور دنیا بھر کی تمام اہم خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




