Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

🚨 ٹک ٹاکر شمسو بی بی عرف عائشہ گلمینہ کا لرزہ خیز قتل؛ والد اور بھائی سمیت قریبی رشتے دار ہی قاتل نکلے، مدعی خود ہی ملزم نکلا

🚨 ٹک ٹاکر شمسو بی بی عرف عائشہ گلمینہ کا لرزہ خیز قتل؛ والد اور بھائی سمیت قریبی رشتے دار ہی قاتل نکلے، مدعی خود ہی ملزم نکلا
Spread the love

ٹیکسلا/ راولپنڈی/ کرائم ڈیسک: راولپنڈی پولیس نے ٹیکسلا میں پیش آنے والے ٹک ٹاکر کے ہولناک قتل کے مقدمے کا ڈراپ سین کرتے ہوئے ایک سنسنی خیز انکشاف کیا ہے۔ سوشل میڈیا پرسنلٹی شمسو بی بی عرف عائشہ گلمینہ کے قتل میں کوئی اور نہیں بلکہ ان کا اپنا والد، حقیقی بھائی اور کزن ملوث پائے گئے ہیں، جبکہ مقتولہ کا باپ خود ہی بیٹی کے قتل کے بعد مقدمے کا مدعی بھی بن گیا تھا۔

📌 پولیس کے اہم انکشافات اور تفتیش کا پس منظر

ایس ایس پی آپریشنز ملک طارق محبوب نے پریس کانفرنس اور تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ:

  • خاندانی مخالفت: مقتولہ خیبرپختونخوا سے ہجرت کر کے اسلام آباد آئی تھی، اور گھر والے سوشل میڈیا پر اس کی ویڈیوز اور سرگرمیوں کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ کچھ عرصہ قبل ایک شادی کی تقریب میں ٹک ٹاکر کی شرکت پر بھی شدید اعتراض کیا گیا تھا، جبکہ اس سے قبل ہری پور میں بھی اس پر حملے کی کوشش کی گئی تھی۔
  • شاطرانہ منصوبہ بندی: ملزمان نے قتل کی واردات اس انداز سے کی کہ شک دوسروں پر جائے اور قانون کو دھوکہ دینے کے لیے خود ہی ڈھونگ رچایا گیا۔
  • گرفتاریاں اور اعتراف: اس اندوہناک قتل کیس میں اب تک 5 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں سے ایک نے اعترافِ جرم بھی کر لیا ہے، اور دونوں شوٹرز بھی پولیس کی تحویل میں ہیں۔

👥 گرفتار ملزمان کی فہرست

پولیس کے مطابق اس گھناؤنے جرم میں ملوث گرفتار ملزمان کے نام درج ذیل ہیں:

  1. فضل (مقتولہ کا والد اور مقدمے کا مدعی)
  2. بشیر (مقتولہ کا حقیقی بھائی)
  3. احسان (چچازاد بھائی)
  4. روزی خان (والد کا چچا)
  5. یاسین (چچازاد بھائی کا بیٹا)

🔍 پولیس کی پیشہ ورانہ کارروائی اور غیرت کے نام پر قتل

ترجمان راولپنڈی پولیس کے مطابق سی پی او حسن مشتاق سکھیرا کی خصوصی ہدایات پر متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں:

  • ڈیجیٹل اور ہیومن انٹیلیجنس: کیس کو ٹریس کرنے کے لیے 100 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز کا جائزہ لیا گیا اور تمام تکنیکی ذرائع بروئے کار لائے گئے۔
  • ابتدائی محرکات: ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ اندوہناک واردات غیرت کے نام پر کروائی گئی ہے۔
  • پولیس کا کہنا ہے کہ تمام ملزمان کو ٹھوس شواہد کے ساتھ عدالت میں چالان کیا جائے گا اور شاطرانہ ہتھکنڈوں کے باوجود قانون کے کٹہرے میں لاکر قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *