تاریخ / مقام: برائٹن (برطانیہ) / لندن
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
برطانیہ کی گرین پارٹی نے اپنی سالانہ کانفرنس کے دوران ایک انتہائی اہم اور سیاسی طور پر حساس قرارداد منظور کرتے ہوئے صہونیت کو نسل پرستی کی ایک شکل قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد برطانوی سیاسی حلقوں، یہودی تنظیموں اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جبکہ خود گرین پارٹی کے اندر بھی اس معاملے پر گہرے اختلافات ابھر کر سامنے آئے ہیں۔
کانفرنس میں رائے شماری اور قرارداد کے اہم نکات
برطانیہ کے شہر برائٹن میں منعقدہ پارٹی کانفرنس میں پیش کی گئی اس قرارداد کے حق میں 1,022 جبکہ مخالفت میں 813 ووٹ ڈالے گئے۔ منظور شدہ قرارداد میں صہونیت کو ایک ’’نسلی قوم پرستانہ سیاسی منصوبہ‘‘ قرار دیا گیا ہے اور اسے دوسری تمام اقسام کی نسل پرستی کی طرح ڈیل کرنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ گرین پارٹی نے فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت، حقِ واپسی، اسرائیل کے خلاف مکمل اسلحہ پابندی اور بائیکاٹ، ڈیویسٹمنٹ اینڈ سینکشنز (BDS) کی تحریک کی بھرپور حمایت دہرائی ہے۔ قرارداد میں تاریخی فلسطین کی پوری سرزمین پر ایک ایسی جمہوری فلسطینی ریاست کے قیام کی وکالت بھی کی گئی ہے جہاں تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں۔
پارٹی کے اندرونی اختلافات اور قیادت کا مؤقف
قرارداد کی منظوری کے باوجود گرین پارٹی کے اندر اتفاقِ رائے کا فقدان نظر آیا۔ پارٹی کے سربراہ زیک پولانسکی نے اس ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، جبکہ پارٹی کے پانچ اراکینِ پارلیمنٹ میں سے چار نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔ پولانسکی اور پارٹی قیادت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صہیونیت کے خلاف اس مؤقف کو یہود دشمنی کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے کیونکہ پارٹی فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ یہودیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی بھی حامی ہے۔
برطانوی یہودی تنظیموں اور اسرائیلی حکومت کا ردعمل
اس فیصلے پر برطانیہ کی تین بڑی یہودی تنظیموں—بورڈ آف ڈپٹیز، کمیونٹی سیکیورٹی ٹرسٹ اور یہودی لیڈرشپ کونسل—کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ ووٹنگ سے قبل ان تنظیموں نے پارٹی کو خط لکھ کر خبردار کیا تھا کہ یہ قرارداد برطانوی یہودیوں کی سلامتی اور فلاح و بہبود پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے اور یہ ایک یہود مخالف سیاسی قدم ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزارت خارجہ نے بھی اس اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صہیونیت کو نسل پرستی قرار دینا جائز سیاسی بحث کی حدود سے تجاوز کرنے اور یہودی عوام کے حقِ خود ارادیت سے انکار کے مترادف ہے۔
G24 News Online بین الاقوامی سیاسی پیش رفت، انسانی حقوق اور دنیا بھر کی تمام اہم خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




