Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

قلعہ عبداللہ میں 24 سالہ خونی دشمنی کا حیرت انگیز خاتمہ: جو کام نامور سردار اور خان نہ کر سکے، نوجوانوں نے کر دکھایا

قلعہ عبداللہ میں 24 سالہ خونی دشمنی کا حیرت انگیز خاتمہ: جو کام نامور سردار اور خان نہ کر سکے، نوجوانوں نے کر دکھایا
Spread the love


کوئٹہ/قلعہ عبداللہ (قومی ڈیسک): بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں ایک ایسا خوشگوار معجزہ رونما ہوا جس نے قبائلی روایات کے روایتی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔ چوبیس (24) سال طویل عرصے کے بعد ایک بیٹی اپنی ماں سے، نواسہ اپنی نانی سے اور بھانجا اپنے ماموں سے گلے ملا۔ دو خاندانوں کے درمیان دو دہائیوں سے جاری خونریز دشمنی بالاآخر علاقے کے چند بیدار مغز نوجوانوں کی ان تھک کوششوں سے ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی ہے۔

📌 دشمنی کی تلخ کہانی اور 24 سالہ محرومیاں

  • تنازع کا آغاز: یہ المناک کہانی سال 2002 میں شروع ہوئی جب حاجی امان اللہ نامی شخص ایک واقعے میں قتل ہو گئے۔ فریقین آپس میں سگے چچا زاد بھائی تھے اور ان کے گھروں کے درمیان محض ایک دیوار کا فاصلہ تھا۔
  • ماں اور بیٹی کی طویل جدائی: قتل کے بعد قاتل اپنی اہلیہ کو سسرال سے ساتھ لے گیا، جس کے بعد اس مظلوم خاتون نے 24 سال تک اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کی شکل تک نہیں دیکھی۔ اس دوران پیدا ہونے والا اس کا بیٹا اب 23 سال کا جوان ہو چکا ہے، جس نے زندگی میں پہلی بار اپنی نانی اور ماموں کا دیدار کیا۔
  • خوف کا سایہ: متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ اس دشمنی نے ان کی زندگیاں جہنم بنا دی تھیں۔ انہیں علاقہ چھوڑ کر کوئٹہ، گلستان اور کراچی منتقل ہونا پڑا، بچوں کو اسکولوں سے اٹھانا پڑا اور ہر وقت جان کا خطرہ لاحق رہتا تھا۔


🤝 سردار اور خان ناکام، نوجوانوں نے معجزہ کر دکھایا

پشتون قبائلی معاشرے میں روایتی طور پر تنازعات کا خاتمہ بڑے بزرگوں، سرداروں، نوابوں اور خانوں کا کام سمجھا جاتا ہے، مگر اس معاملے میں سب بڑے نام ناکام ہو چکے تھے:

  • درجنوں ناکام جرگے: اس دشمنی کے خاتمے کے لیے چمن، پشین اور کوئٹہ کے نامور سرداروں، خوانین اور علماء کی زیرِ قیادت قریباً 48 سے زائد بڑے جرگے منعقد ہوئے، لیکن ہر بار ناکامی ہی ہاتھ آئی۔
  • نوجوانوں کا تاریخی اقدام: کوئٹہ میں مقیم قبیلے کے چند نوجوانوں (جن کی عمریں 25 سے 35 سال کے درمیان ہیں) نے خود یہ بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے روایتی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے دونوں خاندانوں کے بزرگوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، اعتماد بحال کیا اور محض چند ہفتوں میں ناممکن نظر آنے والے اس تنازع کو حل کر دکھایا۔


📜 جرگے کے فیصلے اور تاریخی صلح

  • عظیم اجتماع: اس تاریخی صلح کی تقریب میں صوبے بھر سے دو ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔ برسوں بعد دونوں خاندان گلے ملے اور معافی تلافی کے ساتھ نئی زندگی کا آغاز کیا۔
  • شرائط اور دیت: علاقائی رسم و رواج کے مطابق 50 لاکھ روپے دیت مقرر کی گئی، جبکہ قتل میں ملوث فریق پر 10 سال کے لیے علاقے میں داخلے اور قلعہ عبداللہ بازار میں جائیداد کی خریداری پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
  • قبائلی عمائدین اور متاثرہ افراد نے کھل کر اعتراف کیا کہ جو کام تجربہ کار سردار اور بزرگ دو دہائیوں میں نہ کر سکے، وہ ان نوجوانوں نے کر کے ایک روشن مثال قائم کی ہے۔


⚠️ قلعہ عبداللہ میں قبائلی دشمنیوں کی سنگین صورتحال

ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی کے مطابق، یہ ضلع قبائلی تنازعات سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے:

  • اس وقت بھی ضلع میں مختلف قبائل اور خاندانوں کے درمیان 42 دشمنیاں فعال ہیں جن میں اب تک سو سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
  • زیادہ تر جھگڑے زمینوں اور زرعی پانی/ٹیوب ویلز پر ہوتے ہیں، جبکہ علاقے میں زمینوں کی آخری باقاعدہ سیٹلمنٹ 1950 میں ہوئی تھی۔ پرانے ریکارڈ، افغان سرحد سے قربت کی وجہ سے اسلحے کی دستیابی اور سوشل میڈیا کا منفی استعمال ان تنازعات کو مزید ہوا دے رہا ہے۔

یہ تاریخی صلح اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نئی نسل عزم کر لے تو پرانی نفرتوں کی زنجیروں کو توڑ کر امن اور محبت کا نیا دور شروع کیا جا سکتا ہے۔

#G24News #KillaAbdullah #Balochistan #TribalEnmity #PeaceInitiative #YouthPower #G24NewsOnline

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *